لاہور (خصوصی رپورٹ)کوٹ لکھپت سبزی منڈی کی اراضی 9سال بعد بھی استعمال میں نہ لائی جاسکی۔ایل ڈی اینے 2017 میں کوٹ لکھپت سبزی منڈی کی اراضی واگزار کرائی ،گورننگ باڈی کے فیصلے اور متعدد اعلانات کے باوجود اس اراضی کے مستقبل کا کوئی حتمی لائحہ عمل طے نہ ہوسکا۔ابتدا میں پنجاب حکومت نے اس اراضی پر ہسپتال بنانے کا منصوبہ ختم کر دیا اور پھر یہاں ارفع کریم ٹاور ٹو تعمیر کرنے کا اعلان سامنے آیا ، اس پر بھی عمل نہ ہو سکا۔اسکے بعد ایل ڈی اے اور پی آئی ٹی بی کے اشتراک سے ٹیکنالوجی ٹاور بنانے کا پلان تیار ہوا یہ منصوبہ بھی ختم کر دیا گیا۔بعد ازاںسابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے 122 کنال اراضی پر ہسپتال تعمیر کی منظوری دی۔ ایل ڈی اے اور محکمہ صحت میں معاہدہ ہوا مگر یہ منصوبہ بھی آگے نہ بڑھ سکا اور معاہدہ منسوخ ہوگیا۔کمرشل سرگرمیوں کے فروغ کیلئے چار پلاٹ فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا گیا، یہ فیصلہ بھی واپس لے لیا گیا۔ اسی طرح گندے پانی کے نکاس کیلئے 18 کنال 5 مرلے اراضی پر پمپنگ سٹیشن تعمیر کرنے کا پروگرام بھی ختم کر دیا گیا۔یوں فیروز پور روڈ پر اربوں روپے کی یہ اراضی 9سال بعد بھی استعمال میں نہ لائی جا سکی ،ایل ڈی اے نے اس منصوبے کو ایک بار پھر ترک کر دیا ہے۔