سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔
سماعت کے دوران وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے متعلقہ مقدمات کا ریکارڈ طلب کرکے سماعت کے لیے مقرر کیے جانے کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی۔جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ مقدمات کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کے وفاقی آئینی عدالت کے حکم کے کیا نتائج ہوں گے، اس معاملے پر اٹارنی جنرل عدالت کی معاونت کریں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نہیں چاہتی کہ اعلیٰ ترین عدالتوں کے درمیان کسی قسم کا تضاد سامنے آئے۔جسٹس شاہد وحید نے سماعت کے دوران کہا کہ اعتماد اور روابط کا شدید فقدان نظر آ رہا ہے اور کہیں نہ کہیں غلط فہمی موجود ہے۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ وہ معاملے کو چیک کریں گے۔جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ فی الحال یہ نقطہ ایک طرف رکھ دیا جائے کہ علاج سرکاری اسپتال میں ہوگا یا نجی اسپتال میں، اصل سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے سابقہ حکم کے دیگر حصوں پر عمل درآمد ہوا یا نہیں۔ انہوں نے ملاقاتوں اور بچوں سے ٹیلی فون پر بات کرانے سے متعلق بھی استفسار کیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ عدالت کے مطابق معاملے سے متعلق اپیلیں فوجداری مقدمے اور توہین عدالت کی درخواستوں سے سامنے آئی ہیں۔سپریم کورٹ نے زیر التوا مقدمات میں آئندہ کارروائی کے طریقہ کار پر بھی اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کی۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کا حکم اپنی جگہ موجود ہے۔