لاہور: مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی شدید بارشوں اور بھارت کی جانب سے سلال ڈیم کے تمام گیٹ کھول کر پانی چھوڑنے کے بعد دریائے چناب میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو گئی ہے، جس کے باعث متعدد مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔
صورتحال کے پیش نظر پنجاب کے مختلف علاقوں میں ہائی فلڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔بھارتی حکام کی جانب سے سلال ڈیم سے پانی چھوڑنے کے بعد پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کے باعث سیالکوٹ، وزیرآباد، ہیڈ مرالہ اور قادرآباد سمیت دریائے چناب کے کنارے آباد علاقوں میں متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔محکمہ آبپاشی (ایریگیشن) پنجاب کے مطابق دریائے چناب میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، جبکہ پانی کا بڑا ریلہ آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران وزیرآباد پہنچنے کا امکان ہے۔ حکام نے نشیبی علاقوں کی مسلسل نگرانی اور ممکنہ حفاظتی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔پاکستان محکمہ موسمیات کے فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق 23 جولائی صبح 6 بجے تک کی صورتحال میں ہیڈ خانکی، قادرآباد اور تریمو پر اونچے درجے (ہائی) کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ہیڈ مرالہ اور بلوکی پر درمیانے درجے کا سیلاب جاری ہے۔اس کے علاوہ تربیلا، چشمہ، تونسہ، گدو اور پنجند کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ناروال نالہ، ڈیک نالہ اور نالہ بئیں میں بھی پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ 275,608 کیوسک، ہیڈ خانکی پر 261,463 کیوسک، قادرآباد پر 236,255 کیوسک، تریمو پر 95,913 کیوسک اور ہیڈ بلوکی پر 73,635 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جبکہ منگلا ڈیم سے 99,000 کیوسک پانی کا اخراج جاری ہے۔دوسری جانب تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1519.11 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جو ڈیم کی مجموعی گنجائش کا تقریباً 69 فیصد ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی تاریخ کو ڈیم 80 فیصد تک بھر چکا تھا۔محکمہ موسمیات اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے دریائے چناب کے کنارے آباد شہریوں کو محتاط رہنے، غیر ضروری طور پر دریا کے قریب جانے سے گریز کرنے اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ متعلقہ اداروں نے ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو اور امدادی ٹیموں کو بھی الرٹ کر دیا ہے۔