جہلم: متنازعہ عالم اور سوشل میڈیا پرسنیلٹی انجینئر محمد علی مرزا گرفتار

جہلم: متنازعہ عالم اور سوشل میڈیا پرسنیلٹی انجینئر محمد علی مرزا گرفتار

جہلم سے موصولہ اطلاعات کے مطابق  یوٹیوبر اور متنازعہ مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا کو پولیس نے اچانک گرفتار کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق انہیں تھانہ سٹی جہلم پولیس نے 3 ایم پی او (Maintenance of Public Order) کے تحت حراست میں لیا۔ گرفتاری کے بعد انہیں جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔محمد علی مرزا گزشتہ کئی برسوں سے اپنے بیانات اور ویڈیوز کے باعث تنازعات کا مرکز رہے ہیں۔ ان کے خلاف مختلف مذہبی جماعتوں کی جانب سے درخواستیں دی گئی تھیں۔ آج بھی مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کے وفود نے ضلعی انتظامیہ سے ملاقاتیں کیں اور مرزا کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ ان مطالبات کے بعد انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر لیا۔

3 ایم پی او کیا ہے؟
تین ایم پی او (MPO-3) ایک ایسا قانون ہے جس کا مقصد امنِ عامہ برقرار رکھنا ہے۔ اس دفعہ کے تحت ضلعی انتظامیہ یا صوبائی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر کوئی شخص امنِ عامہ کے لیے خطرہ بن جائے تو اسے بغیر مقدمہ چلائے وقتی طور پر حفاظتی حراست میں لیا جا سکتا ہے۔ڈپٹی کمشنر (DC) یا صوبائی حکومت اس قانون کے تحت کسی بھی شخص کو ابتدائی طور پر 3 ماہ کے لیے قید کر سکتی ہے۔ضرورت پڑنے پر اس حراست کی مدت کو ایک سال تک بڑھایا جا سکتا ہے۔اسے عرفِ عام میں "تین ایم پی او" کہا جاتا ہے۔واضح رہے کہ انجینئر محمد علی مرزا کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے، جہاں ان کے حامی اور مخالفین دونوں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔