پاکستان سے 1062 افغان شہری ملک بدر‘ہائیکورٹ نے18کی واپسی روکدی

 ڈی پورٹ  افغان شہری پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں رہائش پذیر تھے، یکم اپریل سے 75 ہزار سے زائد افغان شہری  کیمپ سے بے دخل کیے جا چکے
عدالت عالیہ نے وزارت داخلہ، نادرا، ڈائریکٹر جنرل امیگریشن، ایف آئی اے اور پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا
پشاور(آئی ا ین پی )ملک میں غیر قانونی رہائش پذیر افغان شہریوں کی ملک بدری کا سلسلہ جاری ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ روز 1062 غیر قانونی رہائش پذیر افغان شہریوں کو طورخم سرحد کے راستے ملک بدر کیا گیا، ڈی پورٹ ہونے والے 776 افراد پی او آر کارڈ ہولڈر تھے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی پورٹ ہونے والے افغان شہری پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں رہائش پذیر تھے، ٹرانزٹ کیمپ آنے والے 123 افراد بغیر دستاویزات کے مقیم جبکہ 163 افراد اے سی سی کارڈ ہولڈرز تھے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یکم اپریل سے 75 ہزار سے زائد افغان شہری لنڈی کوتل ٹرانزٹ کیمپ سے بے دخل کیے جا چکے ہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے 18 افغان شہریوں کو واپس بھجوانے کی کارروائی کو آگے بڑھانے سے روک دیا، عدالت عالیہ نے وزارت داخلہ، نادرا، ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) امیگریشن، ایف آئی اے اور پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے افغان شہریوں کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے، عدالتی حکم نامے کے مطابق حکومت نے 4 اگست کو درخواست گزاروں کے پروف آف ریذیڈنس (پی او آر) کارڈز منسوخ کر کے واپسی کا حکم دیا تھا۔حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ درخواست گزاروں کے وکیل کی جانب سے مقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار فضل الرحمان نامی شخص کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں