کارپوریٹ سیکٹر میں ہفتے میں دو دن آن لائن خدمات اور ٹیلی کام و آئی ٹی سیکٹر میں بھی دو دن آن لائن ورکنگ ‘ دفاتر میں صرف ضروری سٹاف رکھنے کی تجاویز تیار
حکومت پٹرول کے ذخائر کی وافر موجودگی پر جھوٹ بول رہی ہے:چیئرمین پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن‘ گیس اور ڈیزل کے ذخائر موجود ہیں‘سبسڈی کا فیصلہ نہیں ہوا:وزیرخزانہ
اسلام آباد (آئی این پی‘آن لائن) پاکستان میں مشرق وسطی کی کشیدگی کے بڑھنے کے بعد وفاقی حکومت کی ہائی پاورڈ کمیٹی نے اہم تجاویز تیار کرلیں۔ذرائع کے مطابق، حکومت تعلیمی اداروں کے آن لائن سیشنز شروع کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ ملک میں ہنگامی حالات میں تعلیم متاثر نہ ہو۔ذرائع نے بتایا کارپوریٹ سیکٹر میں ہفتے میں دو دن آن لائن خدمات اور ٹیلی کام و آئی ٹی سیکٹر میں بھی دو دن آن لائن ورکنگ کی تجویز زیرغور ہے۔ تمام دفاتر میں صرف ضروری اسٹاف رکھنے اور ہنگامی حالات میں کام کو محدود کرنے کی تجاویز بھی تیار کی گئی ہیں۔ہائی پاورڈ کمیٹی نے پٹرولیم مصنوعات کے اسٹاک کے حوالے سے بھی اقدامات تجویز کیے ہیں۔ غیرضروری سفر سے گریز کرنے کی ترغیب دی جائے گی اور قومی ایکشن پلان کے تحت ضروری جگہوں پر ایندھن کی سپلائی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ توانائی کی بلا تعطل فراہمی برقرار رہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ اگر مشرق وسطی میں کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو قومی ایکشن پلان پر جلد حتمی فیصلہ کیا جائے گا‘دریں اثناء پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسمیع خان نے کہا ہے ملک میں پیٹرول پمپس پر قلت شروع ہونا شروع ہو گئی ہے، دوسری جانب حکومت نے کہا ہے پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسیمع خان نے کہا ملک میں پیٹرول کی طلب میں اچانک اضافہ ہوگیا ہے۔ مختلف پیٹرول پمپس پر قلت ہونا شروع ہوگئی ہے۔عبدالسمیع خان کا کہنا تھا لوگ بڑی مقدار میں پیٹرول پمپوں سے پیٹرول کی خریداری کر رہے ہیں۔ حکومت پیٹرولیم کے ذخائر کی وافر موجودگی پر جھوٹ بول رہی ہے۔ ڈیلرز کو اس کی اوسطاً سیل سے 50 فیصد کم پیٹرول فراہم کیا جارہا ہے۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے ہمارے پاس گیس اور ڈیزل کے ذخائر موجود ہیں‘اس وقت تیزی سے بدلتی صورتحال کی وجہ سے ہمیں روزانہ جائزہ لینا پڑ رہا ہے ‘سبسڈی کا ابھی کوئی فیصلہ ہوا تو دیکھیں گے ۔ پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے پر سبسڈی کے حوالے سے پارلیمنٹ کے باہر گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ سبسڈی کا ابھی کوئی فیصلہ ہوا تو دیکھیں گے ‘ہر روز دوپہر 2 بجے خصوصی کمیٹی کا اجلاس ہوتا ہے جس میں ساری صورتحال کا جائزہ لیا جاتا ہے ‘کمیٹی میں پیٹرولیم، پاور، گورنر سٹیٹ بنک اور وزیر مملکت سمیت کئی وزرا اجلاس میں شرکت کرتے ہیں ۔