نسیم درمانوی
تاریخ اسے بے مْرشد وبے پیرنالہ کے نام سے یاد کرتی ہے پانی جدھر کا رخ کرتاہے تباہی و بربادی کرتا چلا جاتاہے۔یہ نالہ اس سرزمین کے لئے زہرہلاہل کی ماندہے۔ایک پھنکارتی اور اور بل کھاتی ناگن کی طرح ہے۔۔جو اس علاقہ کے رگ و ریشہ کو مفلوج کئے ہوئے ہے
یہ نالہ مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر کے پہاڑوںسے نکلتاہے۔پہلے وقتوں میں اسے علاقہ جموں میں"دیوکاکا""دیوکاندی"یا "ڈیرکا"کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ یہ نالہ ضلع جموں کی تحصیل سامبا(حال ضلع سامبا)کے علاقہ وجے پورونواح سے گزرتا ہواورکنگ باؤنڈری لائن پار کرکیموض لہڑی وسکروڑ کے تحصیل ظفروال ضلع ناروو ال کے مقام پر پاکستان کی حدود میں داخل ہوتا ہے۔ علاقہ ظفروال میں اس پر تین پْل بن چْکے ہیں۔جن میں قدیمی پْل کے حالیہ سیلاب میں پلر بیٹھے ہیں۔جسے علاقائی عوام ڈمپر مافیا کو قصوروار گردانتے ہیں۔جنھوں نیاپنی گاڑیوں کی آمدورفت کی آسانی کی خاطر پْل کے نیچے سے ریت نکال کر پْل کی بنیادوں کو بیٹھنے کا موجب بنایا۔
مقبوضہ ریاست جموں میں ہندؤوں کی بہت بڑی عبادت گاہ "پرمنڈل"اسی نالہ کے کنارے پر واقع ہے۔جسے وہ "تیرتھ" سمجھتے ہیں۔پاکستانی حدود میں یہ ایک لمبا نالہ چار پانچ اضلاع نارووال،سیال کوٹ،گوجرانوالہ اور شیخوپورہ(علاقہ میرک پور بی آر بی نہر اوپر سے گزرتے ہوئے اگے واہنڈو،مریدکے،کوٹ پنڈی داس،شیخپورہ ،ننکانہ صاحب سے ہوتا ہوا شہر شرقپور کے متصل موضع جہاں برہ ،سید والا کے قریب دریائے راوی میں گرتا ہے۔ شروع میں ان اضلاع میں اس نالہ کو "بھاگا بچہ" کہتے تھے لیکن اب وہاں بھی نالہ ڈیک ہی معروف ہو گیا ہے۔
بی آر بی نہر اور نالہ ڈیک کی کراسنگ کے مقام کو سائفن کہتے ہیں جس مقامی لوگ سیفل کہتے ہیں۔اس مقام پر انگریز دور میں ایک نہری ڈاک بنگلہ اور پھاٹک ہوتا تھا۔یہ خوبصورت پکنک پوئنٹ تھا۔
کتاب تاریخ اقوام میں میجر اے سی ایلیٹ اس نالہ کے متعلق ایک معروف واقعہ لکھتے ہیں۔کہ ایک دفعہ مغل بادشاہ شاہجہان دہلی سے کشمیر جارہا تھا۔جب ان کا قافلہ ڈیک کے کنارے پہنچا تو اس میں اس قدر طغیانی تھی کہ اسے عبور کرنا محال تھا۔لیکن جب بادشاہ نے اسے عبور کرنے کی کوشش کی تو دارا شکوہ اور اس کی بیگم جوری کا بہت سا سامال و اسباب لہروں کی نذر ہوگیا۔اس واقعہ پر شاہجہان نے اس وقت کے ضلعی فوجدار کو حْکم دیا کہ ہماری واپسی تک اس پر پْل تعمیر ہونا چایئے۔
فوجدار تو اس بے مْرشد بے پیر لہروں کو کنٹرول نہ کر سکا۔ ابتہ شاہ دولہ گجراتی نے فوجدار کی استدعا پر اس کے اوپر پْل بنوایا۔(واضح رہے کسی زمانے میں لاہور اور پشاور کے درمیان مخلوق خدا کی آمدورفت اسی پْل پر سے ہوتی تھی۔)موضع گْنہ موڑکے نذدیک "شاہ دولہ پْل" چھوٹی اینٹوں اور چونے گچ سے تعنیر کیا گیا تھا۔شائد پْل تعمیر کرنے والوں کے آرادے اور جذبے اتنے نیک تھے کہ کء سو سال گزرنے کے باوجود پْل پر ہلکی اور بھاری گاڑیاں گزرتی رہی ہیں۔اور پْل صحیح سلامت ہے۔
1960ء تک اس علاقے میں اس نالہ پر کوئی پْل نہ تھا۔صرف قلعہ سوبھاسنگھ کے نذدیک ریلوے لائن تھی۔1965ء کی پاک و ہند جنگ کے بعد ضرورت کے پیش نظر ظفروال تا سیالکوٹ روڈ( براستہ ٹھرومنڈی و چونڈہ ) بوبک متر اور ہنجلی کے نذدیک پْل تعمیر کیا گیا جس کے چند روز قبل سیلاب میں پلر بیٹھ گے ہیں۔
بعدازاں وقت کے ساتھ ساتھ علاقہ کی مواصلاتی سہولیات کے پیش نظرڈھوڈا پسرور روڈپر،نارووال پسرور روڈپرقلعہ سوبھا سنگھ کے قریب ،نور پور کے نذدیک سائفن پر پْل تعمیر کئے گئے۔المختصر اب اس نالہ پر مختلف مقامات پرپانچ،چھے پْل تعمیر ہو چکے ہیں۔نذدوڈالہ کینگرہ سیالکوٹ روڈ۔نذد موضع چہوڑ قلعہ سوبھا سنگھ،قاضی پہاڑنگ وغیرہ۔
۔. . . . . . ناچیز کی ناقص عقل کے مطابق اسے نالہ نہیں دریا کے نام سے پکارنا چائیے۔
جس نے کئی نواحی گاؤں بے چراغ بے نام کر دئیے ہیں۔اور لوگ اس نالہ کے سیلاب سے تنگ آکر مختلف علاقوں اور شہروں میں شفٹ ہو گے ہیں۔2015ء میں میڈیائی رپورٹوں کے مطابق سیلاب کی تباہی کے سدباب کیلیے نالہ ڈیک کے پانی کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا پروگرام ترتیب دیا گیا جسے بعدازاں نارووال کے عوام کے احتجاج کے پیش نظر ملتوی کر دیا گیا۔۔
اْس وقت کی میڈیائی رپوروٹوں کے مطابق اس نالہ کے سیلاب کی تباہی کے پیش نظر نمبر ایک موضع سکروڑ اوردیولی کے درمیان ایک نہر نکال کر 10000کیوسک پانی نالہ بسینتر میں ڈالنا تھا۔نمبر دو۔موضع جسیتی نذد دھمتھل 6000کیوسک پانی پرانی ڈیک میں ڈالنا تھا جبکہ 15000کیوسک پانی روائتی ڈیک میں رکھنے کا پروگرام بنا۔بعدازاں پانی کی اس تقسیم کا پروگرام نارووالی عوام واراکین اسمبلی کے احتجاج کے پیش نظر کینسل کرنا پڑا۔اور اس کے متبادل سیلاب کی تباہی کو کم کرنے کیلئے ڈیک کو گہرا کرنے اور کناروں پر بند باندھنے کا پروگرام طے پایا۔
آجکل پھر اس نالہ کے سیلابی پانی نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔ لہڑی و سکروڑ کا بند ٹوٹنے کی وجہ سے بہت سے دیہاتوں کو سیلاب کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ رات گے انتظامیہ کی طرف مساجد میں اعلان کیے گے کہ چھوٹے بچوں اور خواتین کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا جائے کیونکہ بند ٹوٹنے کی وجہ سے سیلاب کا خطرہ بڑھ گیاہے۔
علاوہ ازیں ڈیک کے نواحی دیہات دیولی،جنڈیالہ،موگا،ٹیڑھا اور دیگر دیہات بھی سیلاب کی زد میں آئے ہوئے ہیں۔
حکومت کو اس مسئلے یا آفت کا کوئی مستقل اور دیرپاحل نکالنا ہو گا۔ورنہ یہ نالہ ہرسال اسی طرح تباہی مچاتا رہے گا۔اور غریب عوام اپنے جان و مال سے ہاتھ دھوتے رہیں گے۔