خواجہ خالد آفتاب
اسلامی تاریخ میں بے شمار جنگیں ایسی ہوئیں جنہوں نے وقت کا دھارا موڑا، لیکن دس مئی 2025 کو ہونے والی پاک بھارت جنگ کو ایک انوکھا اعزاز حاصل ہے کہ یہ اسلامی تاریخ کی مختصر ترین، مگر فیصلہ کن جنگ کے طور پر جانی جاتی رہے گی۔ صرف پونے چار گھنٹوں پر محیط اس معرکے نے نہ صرف جنوبی ایشیا کا منظرنامہ بدل کر رکھ دیا بلکہ عالمِ اسلام میں ایک نئی امید کی کرن بھی روشن کی۔ یہ جنگ اچانک نہیں ہوئی۔ بھارت کی جانب سے کشمیر میں جاری مظالم، لائن آف کنٹرول کی بارہا خلاف ورزیاں اور عالمی معاہدوں کی پامالی اس تنازعے کو دہکتے ہوئے شعلوں میں تبدیل کرنے والے عوامل تھے۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے باوجود جب بھارت باز نہ آیا تو قوم نے ایک متفقہ آواز میں اپنے دفاع کا فیصلہ کیا۔ دس مئی کی صبح ایک غیر متوقع حملے نے دنیا کو چونکا دیا۔ پاکستانی افواج نے ایک اعلیٰ حکمت عملی کے تحت دشمن کے حساس مراکز کو نشانہ بنایا۔ یہ جنگ محض چند گھنٹوں پر مشتمل تھی، مگر اس کی شدت، رفتار اور نتائج نے اسے ایک تاریخی مثال بنا دیا۔ جدید ٹیکنالوجی، مستعد قیادت اور عوامی یکجہتی نے دشمن کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔ اس جنگ کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ اس نے خونریزی کو طویل ہونے سے بچا لیا۔ بھارت کو نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی میدان میں بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ عالمی برادری نے پاکستان کے موقف کو تسلیم کیا، جبکہ مسلم دنیا نے اس مختصر مگر مؤثر دفاعی کارروائی کو حق کی فتح قرار دیا۔ یہ جنگ نہ صرف جغرافیائی سرحدوں کا معرکہ تھی بلکہ حق و باطل کا ٹکراو بھی تھی۔ جیسے غزوہ بدر میں اللہ تعالیٰ نے تعداد میں کمی کے باوجود مسلمانوں کو عزت دی اور فتح و نصرت عطا کی ، ویسے ہی اس جنگ نے دنیا کو باور کروایا کہ ایمان، حکمت اور اتحاد ہو تو قلیل وقت میں بھی عظیم فتوحات ممکن ہیں۔ یہ جنگ اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اس نے کم سے کم جانی نقصان کے ساتھ ایک بڑا پیغام دیا کہ امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے.10 مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ وقت کی پیشانی پر کندہ وہ نشان ہے جو رہتی دنیا تک قوموں کو سبق دے گا کہ سچائی، جر?ت اور یقین کے ساتھ لڑی گئی جنگ ہمیشہ تاریخ رقم کرتی ہے خواہ وہ چند لمحوں کی ہی کیوں نہ ہو بدقسمتی سے خطے میں بھارت پاکستان کا وہ ازلی دشمن ہے جس کی شرمناک حرکتوں سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں قیام پاکستان سے لے کر آج تک اس نے پاکستان کے وجود کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے ہر گھٹیا حربہ استعمال کیا ہمیشہ رات کی تاریکی میں پاکستان کی آزادی اور سالمیت پر اور اس آزاد وطن کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی شرمناک کوشش کی، 1948 میں کشمیر پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا جب پاکستان نے جوابی کاروائی کرکے کشمیر کا اڑتیس فیصد حصہ آزاد کروالیا تو یہی گھٹیا دشمن جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ میں چلا گیا جہاں کشمیریوں کا استصواب رائے کا حق تسلیم کیا گیا اور اب تک کئی قراردادیں اہل کشمیر کے حق میں منظور کی گئیں لیکن گھٹیا دشمن بھارت نے اس عالمی ادارے کی قراردادوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈال کر اپنے آخری حد تک نیچ ہونے کا ثبوت دیا ، اگر ہم 1965 میں پاکستان پر مارے جانے والے بھارتی شب خون کو دیکھیں تو اس نے 6 ستمبر 1965 کو رات کے اندھیرے میں پاکستان کی سرحدوں کو پامال کرنے کی مذموم کوشش کی اس کا بھی پاکستان کی افواج نے جو جواب دیا یہ بیشرم دشمن اس کی دھول آج تک چاٹ رہا ہے ، 1971 میں بھی بے شرم مودی نے دھشت گردوں پر مشتمل تنظیم مکتی باہنی میں شامل ہو کر مشرقی پاکستان کی سلامتی پر شب خون مارا اور آج ایک بار پھر جب پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن تھا تو اس نے پہلگام میں خود ہی دہشت گردی کر کے اپنے شہریوں کا قتلِ عام کیا اور پاکستان پر الزام لگا کر رات کے اندھیرے میں ایک بار پھر حملہ کر دیا اسی طرح کئی دہائیوں سے انٹرنیشنل بارڈر، ورکنگ باؤنڈری اور ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ کرکے امن دشمنی کا مظاہرہ کیا اور کئی بار پاکستان میں سرجیکل سٹرائکس کی کوششیں کیں پھر بھی پاکستان نے ہمیشہ پرامن رہنے کی کوشش کی پاکستان کا موقف ہمیشہ یہی رہا کہ پاکستان امن کا خواہش مند ہے اس لیے بھارت پاکستان کو جنگ میں دھکیلنے کی کوشش نہ کرے کیونکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اگر کوئی جنگ ہوئی تو نہ صرف خطے کا امن داؤ پر لگ جائے گا بلکہ پوری دنیا کو ایک طویل اور خوفناک جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن سارے خطرات کے باوجود بھارت نے ہمیشہ خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے پاکستان کے امن کو تہہ و بالا کرنے کی مذموم سازشیں جاری رکھیں ، پاکستان نے اس گھٹیا دشمن کی خوفناک حرکتوں سے پوری دنیا کو خبردار کرکے اس کا راستہ روکنے کی تمام اخلاقی سفارتی کوششیں کیں لیکن چانکیہ کے اس چیلے نے انسان دشمنی اور پاکستان دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 9اور10 مئی کی درمیانی شب پاکستان پر میزائلوں سے حملہ کر دیا جس کے جواب میں افواجِ پاکستان خصوصاً بری فوج کے جوانوں اور پاک فضائیہ کے شاہینوں نے صرف پونے چار گھنٹوں میں مودی کے ہندوتوا نظریات کے بت پاش پاش کر دیئے جس کے زخم جنگی جنون میں مبتلا مودی اور اس کے چیلے رہتی دنیا تک چاٹتے رہیں گے#