سیلاب کی تباہ کاریاں اور حکمرانوں کا فوٹو سیشن

سیلاب کے دنوں میں پاکستان کا ہر منظر ایک المیے کی تصویر پیش کرتا ہے۔ بارشیں جب زور پکڑتی ہیں تو دریا طغیانی پر آ جاتے ہیں، پشتے ٹوٹ جاتے ہیں اور بستیاں پانی میں ڈوب جاتی ہیں۔ یہ مناظر ہمارے لئے نئے نہیں، برسوں سے یہی دہرایا جا رہا ہے۔ ہر سال لاکھوں افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوتے ہیں، کسانوں کی فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں، مویشی مر جاتے ہیں اور بیماریاں وبا کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ مگر ہر بار جب یہ قدرتی آفت آتی ہے تو ایک بات مشترک دکھائی دیتی ہے کہ حکمران طبقہ صرف تصویریں بنواتا ہے، فوٹو سیشن کرتا ہے اور پھر اپنے ایئرکنڈیشنڈ کمروں کو لوٹ جاتا ہے
یہ حقیقت ہے کہ سیلاب قدرتی آفت ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کی روش اسے انسانی غفلت کا المیہ بنا دیتی ہے۔ آج بھی صورتحال وہی ہے جو بیس سال پہلے تھی۔ ریلیف کیمپس قائم ہوتے ہیں مگر ان میں سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ متاثرین کھلے آسمان تلے بیٹھے بارش میں بھیگتے ہیں اور دھوپ میں جلتے ہیں۔ خواتین اور بچوں کی حالت سب سے زیادہ خراب ہوتی ہے۔ حاملہ خواتین کے لیے نہ کوئی طبی سہولت ہے اور نہ بزرگ افراد کے علاج کا بندوبست۔ غریب کسان اپنی فصلوں اور مویشیوں کے نقصان پر دہائیاں دیتا ہے مگر سننے والا کوئی نہیں
سیلاب کے دوران سب سے پہلا مسئلہ بے گھری ہے۔ مکان ڈوب جاتے ہیں یا گر جاتے ہیں۔ متاثرہ خاندان چند چادروں یا لکڑی کے ٹکڑوں سے جھونپڑیاں بنا کر رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان کے پاس نہ چارپائی رہتی ہے نہ برتن۔ دوسرا بڑا مسئلہ کھانے پینے کا ہے۔ سیلابی علاقوں میں پینے کا صاف پانی نایاب ہو جاتا ہے۔ آلودہ پانی کے استعمال سے ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور ملیریا جیسی بیماریاں پھیلتی ہیں۔ بچے اور بوڑھے سب سے زیادہ شکار بنتے ہیں۔ تیسرا بڑا مسئلہ تعلیم کا ہے۔ سیلابی علاقوں کے سکول یا تو ڈوب جاتے ہیں یا انہیں ریلیف کیمپ بنا دیا جاتا ہے، نتیجتاً بچے کئی مہینے تعلیم سے محروم رہتے ہیں
ان حالات میں عوام کو صرف اور صرف عملی مدد چاہیے۔ لیکن ہمارے حکمرانوں کا سب سے پہلا ردِعمل فوٹو سیشن ہوتا ہے۔ وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم ہیلی کاپٹر پر اترتے ہیں، متاثرین کے ساتھ چند منٹ گزارتے ہیں، بچوں کو گود میں اٹھا کر مسکراہٹوں کے ساتھ تصویریں کھنچواتے ہیں اور پھر میڈیا کو پیغام جاری کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ کاغذی کاروائی اور تشہیری مہم کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے یہ مناظر ان کے دلوں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں
میڈیا بھی اس کھیل کا حصہ بن جاتا ہے۔ اخبارات اور ٹی وی چینلز پر انہی تصویروں کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ فوٹو شو اور پریس ریلیز کو ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کر دیا گیا ہو۔ لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہوتے ہیں۔ متاثرین کے پاس کھانے کو نوالہ نہیں، بیماروں کے پاس دوائی نہیں اور گھروں کے نام پر صرف پانی ہی پانی ہے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ عوام کی فریاد دب جاتی ہے اور حکمرانوں کے فوٹو سیشن کو نمایاں کر دیا جاتا ہے
ریاستی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے عوام کو قدرتی آفات سے محفوظ رکھنے کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی کرے۔ اگر ندی نالوں کی صفائی بروقت ہو، ڈیم اور پشتے مضبوط کیے جائیں، اور سیلابی علاقوں کے لیے مستقل حکمت عملی اختیار کی جائے تو آدھی تباہی سے بچا جا سکتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں منصوبے صرف کاغذوں میں بنتے ہیں۔ فنڈز مختص ہوتے ہیں مگر اکثر خورد برد ہو جاتے ہیں۔ جب آفت آتی ہے تو حکمران ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں اور متاثرین کی تقدیر فوٹو سیشن کے رحم و کرم پر چھوڑ دی جاتی ہے
سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہر سال یہی تماشہ دہراتے رہیں گے؟ کیا ریاست کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ سیلاب کے بعد چند فوڈ پیکٹ تقسیم کیے جائیں اور تصویریں کھنچوا کر تشہیر کر لی جائے؟ کیا عوام کی زندگی اتنی سستی ہے کہ وہ ہر سال پانی میں بہا دی جائے اور کوئی ان کا پرسان حال نہ ہو؟
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت فوٹو سیشن کی سیاست چھوڑ کر عملی اقدامات کرے۔ سب سے پہلے متاثرین کے لیے ایک شفاف ریلیف سسٹم بنایا جائے۔ امداد براہِ راست متاثرہ خاندانوں تک پہنچنی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے مقامی حکومتوں کو فعال کیا جائے۔ دوسرے، مستقل منصوبہ بندی کے ذریعے سیلابی علاقوں میں حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔ ڈیم، بیراج اور پشتے تعمیر ہوں اور ندی نالوں کی صفائی کا نظام بہتر بنایا جائے۔ تیسرے، متاثرین کی بحالی کے لیے ایسے پروگرام شروع کیے جائیں جن سے وہ دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔ ان کے لیے مکانات، فصلوں کے بیج اور مویشی فراہم کیے جائیں
میڈیا کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ فوٹو سیشن دکھانے کے بجائے عوامی مسائل کو نمایاں کرے۔ متاثرین کی چیخ و پکار کو اجاگر کرے تاکہ حکمرانوں پر دباؤ بڑھے اور وہ عملی اقدامات پر مجبور ہوں۔ اسی طرح عوام کو بھی سیاسی شعور پیدا کرنا ہوگا۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جو حکمران صرف دکھاوے پر یقین رکھتے ہیں، انہیں ووٹ دینا اپنی بربادی کو دعوت دینا ہے
سیلاب ایک قدرتی آفت ہے لیکن اس کے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے اگر نیت اور نیک نیتی سے کام کیا جائے۔ اگر حکمران فوٹو سیشن کی بجائے عملی خدمت کو شعار بنا لیں تو لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بچ سکتی ہیں۔ لیکن اگر یہ روش جاری رہی تو آنے والے برسوں میں بھی یہی مناظر دیکھنے کو ملیں گے۔ سیلاب آئے گا، بستیاں اجڑیں گی، عوام رلیں گے اور حکمران تصویریں بنوا کر چلے جائیں گے
یہ کڑوی حقیقت ہمیں تسلیم کرنی ہوگی کہ پاکستان میں اصل مسئلہ سیلاب نہیں بلکہ حکمرانوں کا رویہ ہے۔ وہ رویہ جو عوام کے دکھ کو صرف تشہیر کے لیے استعمال کرتا ہے۔ جب تک یہ سوچ نہیں بدلے گی، ہر سال وہی تماشہ دہرایا جائے گا اور عوام کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہیں گے۔ تاریخ ایسے حکمرانوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔

بقولِ فراز

میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں