راولپنڈی میں خواتین ملزمان کو ہتھکڑیاں لگانے کے معاملے پر ان کے رشتہ داروں اور ڈسٹرکٹ بار کے ارکان نے احتجاج کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اڈیالہ جیل سے کچہری اور واپس جیل منتقلی کے دوران خواتین ملزمان کے دونوں ہاتھ تقریباً 6 سے 7 گھنٹے تک ہتھکڑیوں میں جکڑے رہے۔خواتین ملزمان کا کہنا ہے کہ دونوں ہاتھ ہتھکڑیوں میں بندھے ہونے کے باعث انہیں پولیس وین میں سوار ہونے اور اترنے، واش روم جانے اور دوپٹہ درست کرنے سمیت مختلف امور میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔خواتین ملزمان نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکار مدد کے بہانے انہیں وین میں سوار اور نیچے اتارتے وقت پیچھے سے پکڑتے اور ان کے ہاتھ تھامتے رہے۔
دوسری جانب وکلا نے خواتین ملزمان کو ہتھکڑیاں لگانے پر احتجاج کرتے ہوئے اسے آئین اور قانون کے منافی قرار دیا۔ وکلا کا کہنا تھا کہ خواتین کو اس طرح ہتھکڑیاں لگانا غیر آئینی، غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیر انسانی عمل ہے۔سینیئر وکیل شان زیب خان کے مطابق خواتین ملزمان کو ہتھکڑیاں لگانے کا حکم سی پی او راولپنڈی کی جانب سے جاری کیا گیا تھا، تاہم ان کے بقول یہ حکم درست نہیں تھا۔