رفیع صحرائی
پاکستان کے بجلی کے شعبے میں ایک بڑی تبدیلی کا آغاز ہوا ہے۔ وہ یہ کہ حکومت نے روایتی ’’سنگل بائر‘‘ ماڈل سے بتدریج نکلنے اور بجلی کی خرید و فروخت کو مسابقتی منڈی کے اصولوں پر استوار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 20 ستمبر 2026 کو ملک کی پہلی 400 میگاواٹ بجلی وہیلنگ نیلامی کے لیے درخواستیں طلب کی گئیں، جبکہ آئندہ پانچ برس میں مجموعی طور پر 800 میگاواٹ بجلی کو مسابقتی طریقے سے نیلام کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ ابتدا میں ایک میگاواٹ سے زیادہ طلب رکھنے والے صنعتی اور بڑے صارفین اس نظام سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
بظاہر یہ ایک خوش آئند اصلاح ہے۔ اب بجلی پیدا کرنے والے اور بڑے صارفین براہِ راست معاہدے کر سکیں گے اور قومی ترسیلی نظام کے ذریعے بجلی پہنچائی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے مسابقت، شفافیت اور صنعتی شعبے کی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ لیکن کسی بھی بڑی معاشی اصلاح کی طرح اس فیصلے کو بھی صرف ’’تاریخی قدم‘‘ کہہ کر آگے بڑھ جانا کافی نہیں ہو گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے ثمرات عام صارف تک کب اور کیسے پہنچیں گے؟
پاکستان میں بجلی صرف ایک توانائی کا مسئلہ نہیں، یہ معیشت، صنعت، روزگار، مہنگائی اور حکومتی مالیات کا بنیادی مسئلہ ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے محسوس ہوتا ہے کہ حکومتی اخراجات پورے کرنے کا آسان راستہ بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ بن گیا ہے۔ پائیدار معاشی پالیسی، پیداواری معیشت، برآمدات میں غیر معمولی اضافہ اور ٹیکس نیٹ میں وسعت جیسے مشکل مگر دیرپا راستوں کو اختیار کرنے کے بجائے عوام کی جیب سے رقم نکالنے کا راستہ نسبتاً آسان سمجھا جاتا رہا ہے۔ ایسے میں ایک بنیادی سوال ضرور اٹھتا ہے: اگر بڑے بجلی صارفین اور صنعتیں اس سرکل سے نکل گئیں تو کیا حکومت اپنے مالی تقاضے پورے کرنے کے لیے گھریلو صارفین کے گرد شکنجہ مزید تنگ کرے گی جو کہ پہلے ہی مہنگی بجلی کی وجہ سے شدید پریشان ہیں؟ یہ خدشہ محض قیاس نہیں بلکہ پالیسی کے ڈیزائن کا لازمی سوال ہے۔ بڑے اور نسبتاً منافع بخش صارفین اگر اپنی پسند کے سستے بجلی سپلائرز منتخب کرنے لگیں تو تقسیم کار کمپنیوں کے پاس گھریلو اور چھوٹے صارفین کا تناسب بڑھ سکتا ہے۔ لہٰذا حکومت کو ابھی سے واضح کرنا ہوگا کہ مسابقتی منڈی کا مقصد صرف صنعت کو سستی بجلی دینا ہے یا پورے معاشرے کے لیے بجلی کو سستا، قابلِ اعتماد اور قابلِ رسائی بنانا بھی ہے۔
یہاں پی ٹی سی ایل کی مثال بہت کچھ سمجھاتی ہے۔ کبھی سرکاری ٹیلی فون کمپنی حکومت کا ’’کماؤ پوت‘‘ تھی۔ لینڈ لائن کنکشن حاصل کرنے کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑتا تھا۔ پھر موبائل کمپنیاں آئیں، مقابلہ شروع ہوا، پیکیجز سستے ہوئے اور صارف کے پاس انتخاب آگیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ موبائل کمپنیوں کی بھرمار کے دور میں پی ٹی سی ایل کی روایتی اجارہ داری کا وہ زمانہ باقی نہیں رہا۔ پی ٹی سی ایل والے منتیں
کرتے ہیں مگر صارفین کنکشن نہیں لگواتے۔ سوال یہ ہے کہ کہیں مستقبل میں واپڈا یا سرکاری بجلی کا موجودہ نظام بھی اسی طرح صارف کو روکنے کے بجائے صارف کے پیچھے چلنے پر مجبور تو نہیں ہوگا؟
مسابقتی منڈی کا حسن ہی یہ ہے کہ صارف کے پاس انتخاب ہو۔ مگر بجلی کا معاملہ ٹیلی فون سے تھوڑا مختلف ضرور ہے۔ ٹیلی فون کے لیے تو مشینری نصب کرنے کے بعد ہوائیں بیچی جاتی ہیں لیکن بجلی کے لیے پورا قومی گرڈ، ترسیلی لائنیں، سب اسٹیشن اور تقسیم کا نظام درکار ہے۔ اس لیے حکومت خریداری سے پیچھے ہٹ سکتی ہے، لیکن نگرانی سے نہیں۔
سب سے بڑا سوال کارٹلائزیشن کا بھی ہے۔ اگر چند بڑے بجلی پیدا کرنے والے ادارے باہم مل کر قیمتیں طے کرنے لگیں تو ’’آزاد منڈی‘‘ عملاً چند طاقتور اداروں کی منڈی بن سکتی ہے۔ آزاد مارکیٹ کا مطلب بے لگام مارکیٹ نہیں ہوتا۔ حکومت کو مسابقتی قوانین، شفاف نیلامی، قیمتوں کی نگرانی، گرڈ تک بلاامتیاز رسائی اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر نظام بنانا ہوگا۔
اس اصلاح کا ایک دلچسپ اور مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ مستقبل میں عام صارف کو بھی اپنی پسند کے بجلی سپلائر کا انتخاب کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو گھریلو صارفین کے لیے توانائی کا ایک نیا باب کھل سکتا ہے۔ پانچ چھ گھرانے مل کر 15 یا 20 کلوواٹ کا سولر نظام نصب کریں، اپنی ضروریات پوری کریں اور مناسب قواعد کے تحت اضافی بجلی مارکیٹ میں فروخت کریں۔ یوں شہری صرف بجلی کے صارف نہیں بلکہ پیدا کنندہ اور مارکیٹ کے شریک بھی بن سکتے ہیں۔
لیکن اس کے لیے سولر صارفین کو غیر ضروری پیچیدگیوں سے نکالنا ہوگا۔ چھوٹے سولر منصوبوں، کمیونٹی سولر اور مقامی توانائی کے منصوبوں کے لیے آسان قواعد، شفاف نرخ اور تیز تر منظوری کا نظام ضروری ہے۔ مستقبل کی بجلی صرف بڑے پاور پلانٹس سے نہیں، گھروں، کاروباری مراکز، صنعتوں، شمسی پینلز اور ممکنہ طور پر مقامی توانائی کے چھوٹے منصوبوں سے بھی آسکتی ہے۔
دوسری طرف واپڈا اور تقسیم کار کمپنیوں کے روایتی نظام کی اصلاح ناگزیر ہے۔ بجلی چوری، لائن لاسز، ناقص وصولیاں اور انتظامی کمزوریاں برقرار رہیں تو نئی منڈی بھی پرانے مسائل کا بوجھ اٹھاتی رہے گی۔ حکومت کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ موجودہ گردشی قرضے، سابقہ معاہدوں اور کیپسٹی ادائیگیوں کے مسئلے کو نئی مارکیٹ کے ساتھ کس طرح مربوط کیا جائے گا۔ ماضی میں حکومت نے بعض آئی پی پیز کے معاہدے ختم اور متعدد منصوبوں کے ٹیرف شرائط میں تبدیلی بھی کی ہے، مگر اصل امتحان مستقل اور شفاف پالیسی کا ہے۔ تمام آئی پی پیز کے معاہدوں کو ازسرِ نو دیکھنا اور طے کرنا ضروری تھا۔
بجلی کی مسابقتی منڈی صرف بجلی خریدنے کا نیا طریقہ نہیں، ریاست اور صارف کے تعلق کی نئی تعریف بھی ہے۔ اگر اس اصلاح کا نتیجہ سستی بجلی، زیادہ انتخاب، صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافہ اور گھریلو صارف کے لیے کم بل کی صورت میں نکلتا ہے تو یہ ایک حقیقی تبدیلی ہوگی۔ لیکن اگر بڑے صارفین سستی بجلی حاصل کر لیں اور گھریلو صارفین پر باقی نظام کا بوجھ ڈال دیا جائے تو سوال اٹھے گا کہ اصلاح کس کے لیے تھی؟
حکومت بجلی کی خریداری سے پیچھے ضرور ہٹے، مگر عوام کے تحفظ سے نہیں۔ اصل کامیابی اس دن ہوگی جب بجلی صرف منڈی کی شے نہیں بلکہ
عام پاکستانی کے لیے قابلِ استطاعت بنیادی ضرورت بن جائے۔