آبنائے ہرمز عالمی منڈی کی شہ رگ بنی جنگ کا نیا میدان

 امجد علی
اٹھائیس فروری کو شروع ہونے والی جنگ کو اب قریب دو ہفتے بیت چکے ہیں، اور اس دوران اس کے دائرے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ ابتدا میں فضائی اور زمینی حملوں سے شروع ہونے والی یہ جنگ اب خلیج کے پانیوں تک جا پہنچی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی سیاسی کشمکش نے اب دنیا کی سب سے اہم آبی گزرگاہ،  "آبنائے ہرمز" کو اپنے لپیٹ میں لے لیا ہے، جو عالمی معیشت کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے۔

اس جنگ کی ابتدا میں ہی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ پہلی بات یہ کہ ایران پر مسلط کی گئی اس جنگ کو کئی حلقوں میں بلا جواز اور غیر قانونی قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس کا ایک بنیادی مقصد ایران میں رجیم چینج تھا۔ مزید یہ کہ امریکی آئینی روایت کے مطابق کسی بڑی جنگی کارروائی کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری سمجھی جاتی ہے، مگر اس معاملے میں اس اصول کو نظر انداز کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے ناقدین اسے محض ایک جارحانہ سیاسی فیصلہ قرار دیتے ہیں جس کے پیچھے طاقت کا مظاہرہ اور علاقائی بالادستی کی خواہش کارفرما ہے۔ تیسرا زاویہ وسائل کی سیاست کا ہے۔ خلیجی خطہ دنیا کے سب سے بڑے توانائی ذخائر کا حامل ہے، اس لیے اس جنگ کو بعض ماہرین توانائی اور تیل کی سیاست کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔
 
اگر اس جنگ کے پس منظر کو دیکھا جائے تو یہ تنازعہ اچانک پیدا نہیں ہوا۔ گزشتہ چار دہائیوں سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کی صورت میں ایک مستقل سرد جنگ جاری تھی۔ اقتصادی پابندیوں، مالیاتی بندشوں اور سفارتی دباؤ نے ایرانی معیشت کو مسلسل کمزور بنائے رکھا۔ اسے دفاعی ضرورتوں کے لحاظ سے کمزور کیا گیا۔ اس کشمکش کے پس منظر میں اسرائیل کا خوف بھی ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل کی حکمت عملی ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ خطے میں کسی ایسے ملک کو مضبوط نہ ہونے دیا جائے جو اس کی عسکری برتری کو چیلنج کر سکے۔ ایران اپنی نظریاتی بنیادوں اور خطے میں اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے طویل عرصے سے اس فہرست میں شامل رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اسی تناؤ کے ماحول میں امریکی صدر اور اسرائیلی قیادت کے درمیان ہونے والی خفیہ ملاقاتوں میں ایران کے خلاف سخت عسکری کارروائی پر غور کیا گیا۔ ایران کی پہلے سے کمزور معیشت کو دباؤ میں لانے کے لیے ایک فیصلہ کن حملے کی حکمت عملی اختیار کی گئی اور یوں اٹھائیس فروری کو جنگ کا آغاز ہو گیا۔
ابتدائی حملوں میں ایران کو شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ ایرانی سپریم لیڈر کے ساتھ ساتھ متعدد اعلیٰ عسکری افسران شہید ہوئے، جبکہ ایک افسوسناک واقعے میں اسکول کی بچیوں سمیت بڑی تعداد میں شہری ہلاک ہوئے۔ امریکی قیادت نے ان حملوں کو اپنی کامیابی قرار دیا، تاہم زمینی حقائق نے اس دعوے کو جلد ہی چیلنج کر دیا۔ اگر واقعی یہ فیصلہ کن فتح ہوتی تو جنگ شاید اسی مرحلے پر ختم ہو جاتی، مگر ایسا نہ ہو سکا۔

اس کے برعکس ایران نے محدود وسائل اور شدید دباؤ کے باوجود ایسی مزاحمتی حکمت عملی اختیار کی جس نے عالمی مبصرین کو حیران کر دیا۔ ایران کی جوابی کارروائیوں نے نہ صرف خلیج میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا بلکہ اسرائیلی سرزمین پر بھی ایسے حملے کیے جنہیں اسرائیلی تاریخ کے غیر معمولی واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اس دوران پہلی مرتبہ یہ تاثر بھی ابھرا کہ عسکری طاقت کے توازن کے بارے میں رائج تصورات اتنے سادہ نہیں جتنے سمجھے جاتے تھے۔ جذبہ جہاد اور قومی یکجہتی کی قوت نے نئی فتح رقم کی ہے۔

یہ جنگ اب ایک اور نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے قریب بحری سرگرمیوں میں اضافہ اور بعض جہازوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات نے عالمی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آبنائے ہرمز وہ تنگ سمندری راستہ ہے جس سے روزانہ دنیا کے ایک بڑے حصے کی تیل کی ترسیل گزرتی ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو صرف مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ پوری عالمی معیشت شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی بحری بیڑے ابرہم لنکن کی نقل و حرکت اور اس کا پیچھے ہٹ جانا بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی بحری جہازوں کو خلیج کے اندرونی حصوں سے نسبتاً پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔ بعض تجزیہ کار اسے ایران کی دفاعی حکمت عملی کی کامیابی قرار دیتے ہیں، جبکہ کچھ کے نزدیک یہ محض جنگی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ بہرحال اس صورت حال نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جنگ اب ایک وسیع تر سمندری محاذ اختیار کر سکتی ہے۔

اسی دوران امریکی صدر کے چند حالیہ بیانات نے نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جس میں ایران کے ممکنہ جوہری ہتھیاروں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور ہم جنگ جیت چکے ہیں مگر ایران سے اپنی مرضی سے باہر نکلیں گے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں پیش کیا جانے والا بیانیہ اس سے مختلف تھا، اس لیے ناقدین اسے پالیسی میں تضاد یا جنگی جواز کو مضبوط بنانے کی ایک نئی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ اپنے جنگی عزائم کو آگے بڑھاتے ہوئے ایران کو مکمل طور پر کمزور یا تباہ کرنے کے لیے مزید خطرناک اقدامات پر غور کر رہا ہے۔ دوسری طرف اگر امریکہ جیت چکا ہے جو کہ پہلے ہی دن  آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر بھی یہی کہا گیا کہ ہم نے اپنے اہداف حاصل کر لیے ہیں تو پھر ابھی تیرا دن بعد بھی ایران پر بمباری کس لیے کر رہے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر کے بیانات زمینی جنگی صورت حال کی عکاسی کے بجائے حربی میڈیا مینجمنٹ سٹریٹیجی ٹول کا کام کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ایران کی نئی قیادت کی جانب سے جاری ہونے والے پیغامات میں اپنے شہداء￿  کا بدلہ لینے اور ملکی خودمختاری کے دفاع کے عزم کا اعادہ کیا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ وہاں جنگی گولہ بارود کا نشانہ بننے والے تیل بردار جہاز بھی اسی صورتحال کے غماز ہیں کہ آبنائے ہرمز پانی نہیں آگ اور خون کے سمندر کا نقشہ بنتی نظر آرہی ہے۔ یہ تمام عوامل اس جنگ کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا رہے ہیں اور اس کے دائرہ کار کے پھیلنے کے خدشات کو بھی تقویت دے رہے ہیں۔

اگرچہ اس وقت دونوں فریق روایتی ہتھیاروں کے ذریعے جنگ لڑ رہے ہیں، تاہم عالمی سطح پر یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ اگر یہ تنازع طول پکڑ گیا تو کسی مرحلے پر انتہائی تباہ کن ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب جنگیں اپنے آخری اور فیصلہ کن مراحل میں داخل ہوتی ہیں تو شکست کے خوف سے بعض اوقات ایسے ناپسندیدہ انتہائی فیصلے بھی کیے جاتے ہیں جو بظاہر ناممکن تصور کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ چند روز سے عالمی میڈیا میں امریکہ کی اس جنگ میں ممکنہ ناکامیںکے نشانات یا تاثرات پر بھی کھل کر بحث ہو رہی ہے۔ یہ مباحث محض قیاس آرائی نہیں بلکہ زمینی حقائق اور ایران کی غیر معمولی ڈیٹرینس صلاحیت کو سامنے رکھ کر کیے جا رہے ہیں۔

ایشیائی ممالک کے لیے بھی یہ لمحہ? فکریہ ہے کہ آخر کب تک امریکہ مسلم دنیا میں اختلافات اور نفاق کو ہوا دیتا رہے گا کبھی ایک ملک کو تو کبھی کسی اور کو مورد الزام ٹھہرا کر پورے خطے کے امن و استحکام کو داو پر لگاتا رہے گا۔ اس کے برعکس یورپی ممالک باہمی اتحاد کے ساتھ امن و استحکام سے زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ اپنے جدید اسلحے کی نمائش اور تجربات کے لیے اپنی پیاز کی طرح تہہ در تہہ صیہونی شازشی حکمت عملی سے ایشیاء￿  کو مسلسل جنگی میدان میں تبدیل کر رکھا ہے۔ 

اگر گزشتہ چند دہائیوں کی جنگوں کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے تو تصویر بڑی واضح دکھائی دیتی ہے تقریباً ہر بڑے تصادم میں کسی نہ کسی شکل میں امریکہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر ملوث نظر آتا ہے۔ حالانکہ ایک سپر پاور ہونے کے ناطے اسے عالمی امن کا نگہبان ہونا چاہیے، نہ کہ جنگی جنون کا نمائندہ یا اسلحہ منڈی کا نگران۔
اسے اپنی طاقت اور مقام کے مطابق ایک مثالی اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے، مگر افسوس کہ معاملہ اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔ طاقت کا اندھا استعمال جاری ہے، خوف اور ہراس کی فضا پھیلائی جا رہی ہے، اور امن و انصاف کی دھجیاں اڑتی نظر آتی ہیں اور باقی دنیا ایک تماشائی کی طرح خاموش کھڑی محو تماشا ہے، جیسے دو ممالک کے درمیان ورلڈ کپ کے جاری فائنل میچ والے سٹیڈیم میں تماشائی بیٹھے ہوں۔ مگر جہاں وکٹیں نہیں انسان گر رہے ہیں۔ اگر دنیا مفاہمت اور انصاف کو راستہ دے تو ایک خطیر رقم (بلینز آف ڈالر) کے وسائل جنگی الاؤ میں جھونکنے کی بجائے کمزور انسانیت، غربت کی لکیر کے نیچے بسنے والے انسانوں اور یتیموں کی بہتر بہبود اور کفالت کے لیے بروئے کار لائے جا سکتے ہیں امریکی اور اسرائیلی جنگی رویے خونخوار جنگلی جانوروں کی عادات کے ریپلیکا ہی تو ہیں مقتدر عالمی نمائندوں کو اس پہلو کو فوری دیکھنا اور اپنے اثرو رسوخ کو استعمال کر کے درست کرنا ہو گا۔

اسی لیے اس وقت سب سے بڑی ضرورت سفارتی مداخلت کی ہے۔ عالمی قوتوں، علاقائی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں سب کو فوری طور پر فعال ہونا چاہیے تاکہ اس جنگ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی کئی دہائیوں سے جنگوں اور بحرانوں کا شکار ہے۔ اگر یہ تنازعہ مزید پھیل گیا تو نہ صرف خطہ بلکہ پوری دنیا اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گی۔ آبنائے ہرمز کا موجودہ منظر اس حقیقت کی علامت بن چکا ہے کہ جدید جنگیں صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی سیاست کے پورے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔ اگر عقل و تدبر سے کام نہ لیا گیا تو یہ جنگ ایک ایسے طوفان میں تبدیل ہو سکتی ہے جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

دنیا کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ طاقت کے اندھے تصادم کی طرف بڑھنا چاہتی ہے یا سفارت کاری اور دانشمندی کے ذریعے ایک اور عالمی بحران کو ٹالنا چاہتی ہے۔ کیونکہ اگر اس آگ کو ابھی نہ بجھایا گیا تو ممکن ہے کہ تاریخ ایک اور المیہ لکھنے پر مجبور ہو جائے۔