شہزاد راجپوت
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ اعلان کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف فوری طور پر نافذ کیا جائے گا۔ بین الاقوامی سیاست اور عالمی معیشت کے افق پر ایک نئی ہلچل کی علامت ہے۔ یہ محض ایک تجارتی فیصلہ نہیں بلکہ طاقت کے توازن، سفارت کاری کے اصولوں اور عالمی منڈیوں کی سمت پر اثرانداز ہونے والا اقدام ہے۔ٹرمپ کے سیاسی مزاج میںامریکہ فرسٹ کا نعرہ ہمیشہ مرکزی حیثیت رکھتا رہا ہے۔ ان کے نزدیک پابندیاں اور ٹیرف محض اقتصادی ہتھیار نہیں بلکہ خارجہ پالیسی کو منوانے کا تیز ترین ذریعہ ہیں۔ ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے وہ پہلے بھی جوہری معاہدے سے علیحدگی، تیل کی برآمدات پر قدغن اور مالی پابندیوں جیسے اقدامات کر چکے ہیں۔ تازہ اعلان اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جس کا مقصد ایران کو معاشی دباؤ کے ذریعے سیاسی رعایتوں پر مجبور کرنا بتایا جا رہا ہے۔تاہم اس فیصلے کے اثرات صرف تہران تک محدود نہیں رہیں گے۔ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک خصوصاً توانائی، پیٹروکیمیکل، تعمیرات اور زراعت کے شعبوں میںبراہِ راست متاثر ہوں گے۔ 25 فیصد ٹیرف کا مطلب یہ ہے کہ امریکی منڈی تک رسائی مہنگی اور بعض صورتوں میں ناقابلِ عمل ہو سکتی ہے۔ نتیجتاً عالمی سپلائی چین میں خلل، قیمتوں میں اضافہ اور تجارتی راستوں کی نئی ترتیب ناگزیر دکھائی دیتی ہے۔یہاں سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایسی یکطرفہ پابندیاں بین الاقوامی قوانین اور عالمی اداروں کے طے شدہ اصولوں سے ہم آہنگ ہیں؟ عالمی تجارتی تنظیم (WTO) کی روح آزاد اور منصفانہ تجارت کے فروغ پر قائم ہے مگر طاقتور معیشتوں کے سیاسی فیصلے اکثر ان اصولوں کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ یورپی یونین اور ایشیائی ممالک پہلے ہی امریکی تجارتی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ایران کے معاملے میں نئی پابندیاں ممکن ہے کہ اتحادیوں کے درمیان بھی اختلافات کو گہرا کر دیں۔علاقائی سطح پر اس اقدام کے سیاسی مضمرات بھی کم اہم نہیں۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی تنازعات، توانائی کی سیاست اور سفارتی کشمکش کا مرکز ہے۔ ایران پر مزید دباؤ نہ صرف اس کی معیشت بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی متاثر کرے گا۔ اگر تہران جوابی اقدامات کرتا ہے تو توانائی کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی افراطِ زر کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال نہایت محتاط تجزیے کی متقاضی ہے۔ ایک طرف عالمی منڈیوں سے وابستگی، دوسری طرف علاقائی تعلقات اور توانائی کی ضروریات ان کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک مشکل مگر ناگزیر ذمہ داری ہے۔ سفارت کاری کا تقاضا یہی ہے کہ قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے عالمی قوانین اور علاقائی امن دونوں کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تجارتی پابندیاں وقتی دباؤ تو پیدا کر سکتی ہیں مگر پائیدار حل مکالمے، اعتماد سازی اور بین الاقوامی تعاون ہی سے نکلتا ہے۔ دنیا ایک بار پھر اس آزمائش سے گزر رہی ہے کہ آیا طاقت کی سیاست غالب آئے گی یا سفارت کاری کی زبان۔ آنے والے دن بتائیں گے کہ یہ فیصلہ عالمی استحکام کی طرف قدم ہے یا نئی کشمکش کا پیش خیمہ۔