سعودی عرب کا امن اور استحکام امت مسلمہ کیلئے انتہائی اہم

تحریر: الشیخ  ڈاکٹر ایاد بن احمد الشکری--موذن مسجد نبوی
 مملکتِ سعودی عرب کے قومی دن کے  موقع پر مسجدِ نبوی شریف کے مؤذن الشیخ  ڈاکٹر ایاد بن احمد الشکری نے ایک ایمان افروز پیغام میں مملکتِ سعودی عرب، اس کے حکمرانوں، وطن کی سلامتی اور عوام کی خوشخالی کے لیے دعا کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔الشیخ ڈاکٹر ایاد بن احمد الشکری مسجدِ نبوی شریف کے مؤذن ہونے کے ساتھ مدینہ منورہ کی اسلامی یونیورسٹی کے ریٹائرڈ پروفیسر بھی ہیں۔ وہ کمیونٹی پارٹنرشپ کے لیے اقوام متحدہ کے سفیر، کمیونٹی ریسپانسبلٹی کے شعبے میں پیشہ ورانہ تحقیق سے وابستہ شخصیت اور متعدد فلاحی اداروں و اوقاف کے بانی ارکان میں شمار ہوتے ہیں۔ الشیخ ایاد احمد الشکری نے اپنے پیغام میں امتِ مسلمہ اور ہر محبِ وطن و وفادار انسان سے اپیل کی کہ وہ مملکتِ سعودی عرب اور اس کے حکمرانوں کے لیے دعا کریں۔ان کے مطابق حکمرانوں کی اصلاح، توفیق اور رہنمائی کے لیے دعا کرنا ان کی خیر خواہی اور نصیحت کا ایک اہم حصہ ہے، کیونکہ حکمرانوں کی درست سمت میں رہنمائی، ملک کے امن، استحکام، ترقی اور خوشخالی پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ ایک پْرامن اور مستحکم معاشرہ صرف مضبوط نظام ہی سے نہیں بلکہ باہمی اعتماد، ذمہ داری اور خیر خواہی کے جذبے سے بھی تشکیل پاتا ہے۔مسلمان کی عزت اور قومی وقار اس بات میں بھی ہے کہ وہ اپنے وطن کے استحکام اور اپنے معاشرے کے امن کے لیے مثبت کردار ادا کرے۔ الشیخ ڈاکٹر ایاداحمدالشکری کے پیغام کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ حکمرانوں کے لیے خیر، سلامتی، اصلاح، درست فیصلوں اور ہدایت کی دعا مسلسل کی جانی چاہیے۔ یہ دعا صرف قومی دن یا کسی خاص موقع تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس وقت بھی جاری رہنی چاہیے جب ہم اپنے گھروں، معاشرے اور ملک میں امن و امان کی نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہوں۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو،رسول اکرم ص کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے صاحبِ امر کی اطاعت کرو۔
(النساء￿ : 59)
اس آیتِ مبارکہ میں نظمِ اجتماعی اور صاحبِ امر کے حوالے سے ایک بنیادی اصول بیان کیا گیا ہے۔ معاشرے کے معاملات میں نظم، امن اور استحکام کی اہمیت مسلم ہے۔ اسی لیے حکمرانوں کے لیے خیر اور ہدایت کی دعا کرنا بھی خیر خواہی کا ایک پہلو ہے۔
نبی کریم ? نے فرمایا:
ترجمہ: تمہارے بہترین حکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں، تم ان کے لیے دعا کرتے ہو اور وہ تمہارے لیے دعا کرتے ہیں۔
(رواہ مسلم)
یہ حدیث باہمی محبت، خیر خواہی اور دعا کے تعلق کو نمایاں کرتی ہے۔ ایک مضبوط معاشرہ محض قوانین سے نہیں بنتا بلکہ عوام اور قیادت کے درمیان اعتماد، خیر خواہی اور ذمہ داری کے رشتے سے بھی قائم رہتا ہے۔
ایک اور حدیث میں نبی کریم  نے فرمایا‘تین باتیں ایسی ہیں جن پر کسی مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا: اللہ کے لیے عمل کو خالص کرنا، حکمرانوں کی خیر خواہی کرنا اور مسلمانوں کی جماعت سے وابستہ رہنا۔‘‘
یہ تعلیم ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ خیر خواہی، اصلاح اور اجتماعی اتحاد اسلامی معاشرت کے بنیادی اصول ہیں-معاشرے کے امن، وحدت اور اجتماعی مفاد کی حفاظت بھی ایک بڑی ذمہ داری ہے۔صحیح مسلم میں حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  نے فرمایا‘‘یعنی تمہارے بہترین حکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں، تم ان کے لیے دعا کرتے ہو اور وہ تمہارے لیے دعا کرتے ہیں۔‘‘
سلف صالحین نے بھی حکمرانوں کے لیے اصلاح اور ہدایت کی دعا کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ امام فضیل بن عیاض رحمہ اللہ سے منسوب قول ہے کہ اگر ان کے پاس ایسی دعا ہوتی جس کے قبول ہونے کا یقین ہوتا تو وہ اسے حکمران کے لیے مخصوص کرتے، کیونکہ حکمران کی اصلاح سے عوام اور ملک کی اصلاح وابستہ ہوتی ہے۔امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے بھی منقول ہے کہ وہ دن رات حکمرانوں کے لیے درستگی اور توفیق کی دعا کرتے تھے۔ اسی طرح امام نووی رحمہ اللہ نے حکمرانوں کے لیے اصلاح اور توفیق کی دعا کو ان کی خیر خواہی کا حصہ قرار دیا۔ شیخ عبدالرحمن بن سعدی رحمہ اللہ نے بھی مسلم حکمرانوں، ان کی توفیق اور ان کے معاونین و مشیروں کی اصلاح کے لیے دعا کی اہمیت بیان کی ہے۔
شیخ ابن باز اور شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کی تعلیمات میں بھی حکمرانوں کے لیے ہدایت، اصلاح اور توفیق کی دعا کو اہمیت حاصل ہے۔ اس نقط نظر کے مطابق حکمرانوں کی اصلاح اور کامیابی کی دعا دراصل پورے معاشرے کے امن، استحکام اور بھلائی کی دعا بھی ہے۔یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی صرف معاشی منصوبوں، جدید ٹیکنالوجی یا بڑے بڑے منصوبوں سے ممکن نہیں ہوتی۔ اس کے لیے امن، استحکام، قانون کی بالادستی، اجتماعی ذمہ داری اور عوام و ریاست کے درمیان اعتماد بھی ضروری ہے۔ جب معاشرے میں امن ہوتا ہے تو تعلیم، تجارت، صنعت، سیاحت، صحت اور دیگر شعبہ ہائے زندگی ترقی کرتے ہیں۔ اس لیے وطن کے امن اور اس کی قیادت کے لیے خیر کی دعا دراصل پورے معاشرے کی خیر کی دعا ہے۔
مملکتِ سعودی عرب کی اہمیت صرف اس کی جغرافیائی حدود تک محدود نہیں۔ سرزمینِ حجاز مسلمانوں کے دلوں میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ مکہ مکرمہ میں بیت اللہ شریف اور مدینہ منورہ میں مسجدِ نبوی  دنیا بھر کے مسلمانوں کی روحانی وابستگی کا مرکز ہیں۔ ہر سال دنیا کے مختلف ممالک سے لاکھوں مسلمان حج اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں۔ حرمین شریفین کی خدمت، زائرین کی سہولت اور ان کے امن و سلامتی کا انتظام ایک عظیم ذمہ داری ہے۔اسی لیے سعودی عرب کا امن اور استحکام صرف سعودی عوام کے لیے نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ حرمین شریفین سے وابستہ ہر معاملہ امتِ مسلمہ کے جذبات سے جڑا ہوا ہے۔ سعودی عرب میں 
امن ہو تو لاکھوں عازمینِ حج اور عمرہ اطمینان کے ساتھ اپنے مذہبی فرائض ادا کرتے ہیں۔قومی دن کے موقع پر الشیخ ڈاکٹر ایاد بن احمد الشکری کا پیغام اسی وسیع تر احساسِ ذمہ داری کو اجاگر کرتا ہے اور  وفاداری، محبت اور خیر خواہی کے اظہار کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے پیغام میں وطن کی سلامتی، حکمرانوں کی اصلاح، عوام کی خوشخالی اور معاشرے کے اتحاد کے لیے اجتماعی دعا کی ترغیب دی گئی ہے۔یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ وطن سے محبت صرف جذباتی نعروں کا نام نہیں بلکہ اس کی سلامتی، قانون، امن، معاشرتی اقدار اور اجتماعی مفاد کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کرنا بھی حب الوطنی ہے۔ قومی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ایک مضبوط قوم وہی ہوتی ہے جو اپنی تاریخ سے سبق حاصل کرے، اپنے حال کی قدر کرے اور اپنے مستقبل کے لیے متحد ہو کر آگے بڑھے۔
مملکتِ سعودی عرب نے گزشتہ کئی دہائیوں میں حرمین شریفین کی خدمت، زائرین کی سہولت، فلاحی سرگرمیوں، عالمی انسانی امداد اور مختلف بین الاقوامی معاملات میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ مسلم دنیا میں سعودی عرب کی مذہبی اور سیاسی اہمیت اپنی جگہ ایک حقیقت ہے، اور اسی تناظر میں اس ملک کا امن اور استحکام وسیع تر اسلامی دنیا کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔
قومی دن کے اس موقع پر سب سے خوب صورت پیغام یہی ہے کہ وطن کے لیے خیر مانگی جائے، امن کے لیے دعا کی جائے، عوام کی خوشخالی  کیلئے دعا کی جائے اور قیادت کے لیے بھی ہدایت، بصیرت، درست فیصلوں اور نیک مشیروں کی دعا کی جائے۔ اختلافات اور مشکلات ہر معاشرے کا حصہ ہو سکتے ہیں، لیکن ان کے حل کے لیے خیر خواہی، حکمت، دعا اور مثبت کردار ہمیشہ زیادہ تعمیری راستہ فراہم کرتے ہیں۔آج جب مملکتِ سعودی عرب اپنا قومی دن منا رہی ہے تو مسجدِ نبوی ? کے مؤذن کا یہ پیغام ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ قومی خوشی کو دعا، شکر اور ذمہ داری کے جذبے کے ساتھ جوڑا جائے۔ اللہ تعالیٰ سعودی عرب کو ہمیشہ امن، استحکام اور خوشخالی عطا فرمائے، حرمین شریفین کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ رکھے اور دنیا بھر سے آنے والے زائرین کے لیے اس سرزمین کو امن و سکون کا مرکز بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔