عاصم رضا خیالوی
بچپن میں ہم نے ایک کہانی پڑھی تھی "اتفاق میں برکت ہے"۔ ایک کسان کے تین بیٹے تھے جو ہمیشہ آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ کسان نے انہیں سکھانے کے لیے لکڑیوں کا گٹھا دیا۔ جب وہ الگ الگ لکڑیاں توڑنے لگے تو فوراً ٹوٹ گئیں، لیکن جب گٹھا باندھ دیا گیا تو کوئی بھی نہ توڑ سکا۔ کسان نے کہا: "یاد رکھو، اگر تم متحد رہو گے تو کوئی دشمن تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا، لیکن اگر بکھر گئے تو سب کمزور پڑ جاؤ گے۔" یہ صرف کہانی نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک سبق ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں فرمایا: (اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو۔ آلِ عمران: 103)۔ یہ آیت آج کے حالات میں مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ دشمن جانتا ہے کہ اسلام سب سے بڑی طاقت ہے، اسی لیے مسلمانوں میں نفاق کے بیج بو دیے گئے۔ کسی کو سیاسی بحران میں الجھا دیا گیا، کسی کو معاشی کمزوری میں، اور کسی کو اندرونی انتشار میں۔اسرائیل دراصل ایک قبضہ گروپ ہے۔ اس کا اصل مقصد مسلمانوں کا قتلِ عام ہے۔ یہ ایک ٹارگٹ کلر کی طرح ہے جس کے پیچھے وہ عالمی طاقتیں ہیں جو خود کو امن کے ٹھیکیدار کہتی ہیں۔ لیکن جب یہ قبضہ مافیا فلسطین اور دیگر اسلامی ممالک میں خون بہاتا ہے تو یہ طاقتیں صرف رسمی بیانات دیتی ہیں۔ اسرائیل کی ہٹ دھرمی سب پر عیاں ہے۔ کبھی وہ ایران کو نشانہ بناتا ہے، کبھی شام کو، کبھی لبنان کو، کبھی غزہ اور فلسطین کی بستیوں پر حملہ کرتا ہے، اور اب قطر کو بھی للکار چکا ہے۔ یہ حملے صرف زمین کے ٹکڑوں پر نہیں بلکہ پوری امت کے وجود پر وار ہیں۔ ایران کے جوابی حملے نے اسرائیل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اگر چار پانچ بڑے اسلامی ممالک ایک میز پر بیٹھ کر متحدہ اعلان کر دیں تو وہی عالمی طاقتیں جو امن کے نعرے لگاتی ہیں، اسرائیل کو بچانے کے لیے سب سے آگے آ کھڑی ہوں گی۔ یہی طاقتیں دماغ سے جنگ کرتی ہیں۔ جب تک مسلمان صرف سہتے رہیں گے، یہ گولیاں برساتے رہیں گے۔ لیکن جس دن بھرپور جواب ملا، یہ امن کا جھنڈا لہرانے پر مجبور ہو جائیں گے۔اسلامی تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ جب بھی مسلمان متحد ہوئے، دنیا کی کوئی طاقت انہیں شکست نہ دے سکی۔ بدر، احد اور خندق کے معرکوں میں مسلمانوں نے ایمان اور اتحاد کی بدولت بڑے بڑے لشکروں کو شکست دی۔ صلاح الدین ایوبی نے اتحاد اور حکمت سے بیت المقدس کو آزاد کرایا۔ سلطنت عثمانیہ نے صدیوں تک اسلام کا پرچم بلند رکھا اور دشمنوں کو لرزہ بر اندام کر دیا۔ آج بھی اگر امت مسلمہ اپنے اختلافات بھلا دے تو کوئی طاقت ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔پاکستان ہمیشہ سے امتِ مسلمہ کا مضبوط قلعہ رہا ہے۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف کا قطر کے ساتھ کھڑے ہونے اور اسرائیل کو متنبہ کرنے کا اعلان پوری دنیا کے لیے پیغام ہے کہ پاکستان امت کے ساتھ ہے۔ پاکستان کی افواج اور انٹیلی جنس دنیا کی بہترین صلاحیت رکھتی ہیں۔ اگر اس ملک کی معیشت مستحکم ہو جائے تو یہ صرف پاکستان کی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کی حفاظت کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن سب سے زیادہ پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اگر تمام اسلامی ممالک مل کر پاکستان کو معیشت کی مضبوطی میں بھرپور تعاون دیں تو پاکستان پورے اسلام کا بازو بن سکتا ہے۔ مضبوط اقتصادی بنیادیں نہ صرف دفاعی صلاحیتوں کو
بڑھاتی ہیں بلکہ سیاسی آزادی اور بیرونی دبائو کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی دیتی ہیں۔ لہٰذا مسلم ممالک کو چاہیئے کہ وہ مفادِ عامہ کو مقدم رکھیں، باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون کو فروغ دیں تاکہ ایک مشترکہ معاشی قوت وجود میں آئے جو امتِ مسلمہ کے مفادات کا محافظ بن جائے۔مسلم ممالک کو اب ان دْشمنوں کے چْھلے ہوئے میزوں (وہ بات چیت یا معاہدے جو دراصل دشمنی کے مفادات کو فروغ دیتے ہیں) سے ہٹ کر اپنے اندرونی ترقی کے منصوبوں پر توجہ دینی ہوگی۔ ہمیں اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی: طاقت کے مظاہرے، خفیہ سازشوں اور خالی بیانات کے بجائے عوامی فلاح، تعلیمی اور طبی نظام کی مضبوطی، اور مشترکہ دفاعی و اقتصادی حکمتِ عملی اپنانی ہوگی۔ جہاں انسانیت اور اسلام کی بقا کا معاملہ ہو، وہاں کسی بھی قسم کا مفاد ثانوی سمجھنا ہوگا۔امت مسلمہ کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ کب تک وہ جھوٹے امن کے بیانات پر اعتماد کرتے رہیں گے۔ دشمن ایک ایک کر کے ہماری بستیاں نگل رہا ہے۔ قرآن کا حکم واضح ہے: اتحاد کرو، تفرقہ نہ ڈالو۔ پاکستان کی مضبوطی صرف پاکستان کی نہیں، بلکہ پوری امت مسلمہ کی مضبوطی ہے۔ لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمان بیدار ہوں، اتحاد کی طاقت کو پہچانیں اور اپنے وجود کی حفاظت کے لیے متحد ہو کر کھڑے ہو جائیں۔