مسئلہ کشمیر پر امت مسلمہ خاموش تماشائی

زرافشاں فرحین
اقوام متحدہ میں سات دہائیوں قبل مسئلہ کشمیر پیش ہوا جہاں سے اس مسئلے کا حل حق خود ارادیت تفویض کیا گیا۔ اقوام متحدہ میں رسوا ہونے کے بعد بھی بھارت کی ہٹ دھرمی میں کوئی کمی نہیں آئی اور اس نے کسی بھی صورت اپنی فوج کو کشمیر سے نکالنے سے انکار کیا۔ مک ناٹن، ڈکسن اور فرینک گراہم تینوں ثالثوں نے جو تجاویز دیں پاکستان نے ہمیشہ ان سے اتفاق کیا لیکن بھارت نے ہمیشہ دھونس، زبردستی کا رویہ اپنائے رکھا۔ اس رویے اور کشمیر سے فوج نہ نکالنے کی ضد کے باعث امریکی حلقے بشمول امریکی سفیر آن ریکارڈ یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ بھارت جان بوجھ کر کشمیریوں کوحق خود ارادیت نہیں دینا چاہتا کیونکہ بھارت جانتا ہے کہ کشمیری پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں۔ ان سب باتوں کے باوجود کشمیر سلامتی کونسل کے سرد خانے میں کہیں پڑا ہوا ہے۔ بھارت نے آرٹیکل370  کو ختم کرکے کشمیریوں کے بچھے کھچے حقوق چھین لیے اور آرٹیکل 35 اے کو نافذ کرکے مقبوضہ کشمیر کی مسلم آبادی کے تناسب کو بدلنے کی کوششیں شروع کر رکھی ہیں۔پاکستان کے علاوہ چین وہ واحد ملک ہے جس نے ہمیشہ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کی کھل کر مخالفت کی ہے۔ باقی دنیا کا سویا ہوا ضمیر وادی سے بلند ہوتی چیخوں کو سننے سے قاصر ہے۔ اغیار سے کیا شکوہ کریں کہ امت مسلمہ خود خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ او آئی سی باقی تمام مسائل کی طرح یہاں پر بھی ناکام ہے۔
 دنیا نے کشمیر نامی اس فلیش پوائنٹ کے حل کی طرف سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ یہاں ہونے والے مظالم دنیا کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود دنیا کی طاقتیں بھارت کے ہاتھ روکنے میں ناکام ہیں۔ یاد رہے یہ وہی دنیا ہے اور وہی سپر پاور ہے جو ہولوکاسٹ کا ماتم آج بھی کررہی ہیں۔ صرف اس لیے کہ ہولوکاسٹ کی مذمت سے عالمی طاقتوں کے مفادات وابستہ ہیں۔ جیسے ہولوکاسٹ کی مذمت اور اس کے متاثرین سے ہمدردی جتانا فرض بن چکا ہے، بالکل اسی طرح بلیک لائف میٹرز کی پذیرائی بھی لازم ہے۔ بے شک انسانیت کی معراج اسی میں ہے کہ تمام انسان برابر ہیں اور کسی بھی بے گناہ کی موت انسانیت کی موت ہے۔ لیکن کیا کشمیری انسان نہیں ہیں؟ کیا ان کے خون کا رنگ الگ ہے۔ دنیا کے مہذب ملکوں کی نظروں سے کشمیریوں پر ہونے والے مظالم اس لیے اوجھل رہتے ہیں مگر آخر کب تک عالمی انسانی حقوق کے ادارے خاموش تماشاء بنے رہیں گے آج کا نوجوان پاکستانی سوشل میڈیا کا استعمال کرنے میں دنیا کے دس بڑے ممالک میں شامل ہے یہ چاہے تو اپنا کردار ادا کرکے کشمیر کے حق خودارادیت کے لئے بھرپور آواز بن سکتا ہے 
پاکستان کی شہ رگ کٹ گء تو ہمیں تباہی کا سامنا کرنا ئوگا جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا آئیے کشمیر کی آواز بن جائیں اپنا فرض نبھائیں 
#