شہزاد راجپوت
ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں مگر حالیہ برسوں میں یہ تنازع جس سطح پر جا پہنچا ہے اس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں، ایران کی انقلابی سوچ اور ان دونوں کے درمیان پراکسی جنگوں نے امت مسلمہ کے اجتماعی شعور کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کشیدہ صورت حال میں امت مسلمہ کہاں کھڑی ہے اور اسے کیا کردار ادا کرنا چاہیے؟ایران جو خود کو اسلامی مزاحمت کی علامت قرار دیتا ہے۔ فلسطینی تحریکوں بالخصوص حماس اور حزب اللہ کی کھل کر حمایت کرتا رہا ہے۔ اس کے برخلاف اسرائیل جس نے فلسطین پر غاصبانہ قبضہ کیا اور امریکہ کی حمایت سے مشرق وسطیٰ میں اپنا تسلط قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ حالیہ دنوں میں شام، لبنان، عراق اور یمن میں پراکسی جنگوں، ڈرون حملوں اور سائبر وار کے ذریعے دونوں ممالک ایک دوسرے کو مسلسل کمزور کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔گزشتہ مہینوں میں جب ایران کے قونصل خانوں پر حملے اور اسرائیلی حساس مراکز پر جوابی کارروائیاں ہوئیں تو ایک نیا خطرناک باب کھل گیا۔ اس میں نہ صرف عالمی طاقتیں متحرک ہو گئیں بلکہ مسلمان ممالک کی اندرونی تقسیم بھی واضح ہو گئی۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ امت مسلمہ کی اکثریت یا تو خاموش تماشائی بنی رہی یا پھر مختلف بلاکس میں بٹ کر اپنی پوزیشن واضح کرنے سے گریزاں رہی۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک ایران کی پالیسیوں پر تحفظات رکھتے ہیں جبکہ ترکی اور قطر جزوی طور پر ایران کے بیانیے کے قریب نظر آتے ہیں۔ اس تقسیم نے مسلم دنیا کے اجتماعی مفادات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔او آئی سی (OIC) جیسا پلیٹ فارم اس وقت مجرمانہ حد تک غیر فعال دکھائی دیتا ہے۔ فلسطین کا مسئلہ ہو یا غزہ کی تباہی بیشتر مسلم ممالک محض مذمتی بیانات تک محدود رہتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اگر ایران اور اسرائیل کے مابین یہ کشیدگی کسی بڑے تصادم میں بدل جاتی ہے تو اس کا براہ راست نقصان امت مسلمہ کو ہو گا۔ شام، لبنان، عراق اور یمن کی تباہی پہلے ہی مسلمانوں کی اجتماعی کمزوری کی عکاس ہے۔ مزید خانہ جنگیاں، معاشی ناکہ بندیاں اور غیر ملکی مداخلتیں اسلامی دنیا کو مزید غیر مستحکم کر دیں گی۔ایران اور عرب دنیا کے درمیان اختلافات کو ختم کرنا، مکالمہ کو فروغ دینا اور فلسطین کے مسئلے پر یک زبان ہونا ہی اس وقت امت مسلمہ کی اصل ضرورت ہے۔ بصورت دیگر ایران تنہا ہو گا اور اسرائیل اپنے اہداف میں کامیاب ہوتا چلا جائے گا۔مغربی دنیا بالخصوص امریکہ اور یورپ، ایران کو ایک "خطرہ" بنا کر پیش کرتی ہے اور اسرائیل کو "مدافع" کے طور پر۔ اس بیانیے کو مسلم دنیا میں چیلنج کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ مسلم میڈیا، دانشور، علماء اور قیادت کو چاہیے کہ وہ امت کو حقائق سے آگاہ کریں اور امت کو بیدار کریں۔ اب خاموشی مزید تباہی کا پیش خیمہ بنے گی۔امت مسلمہ کو ایران اسرائیل تنازعے کو محض دو ممالک کی لڑائی سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔ یہ دراصل ایک عالمی اسٹیبلشمنٹ کی مسلم دنیا کو تقسیم در تقسیم کرنے کی سازش ہے۔ اگر مسلمان ممالک اتحاد، حکمت اور قیادت کا مظاہرہ کریں تو نہ صرف فلسطین آزاد ہو سکتا ہے بلکہ مسلم دنیا بھی ایک بار پھر باوقار مقام حاصل کر سکتی ہے۔