سید منیر حسین گیلانی
قدرت نے انسان کو’’ احسن تقویم ‘‘سے مزین کر کے خلق کیا ہے اور اس کے وجود میں چار بڑی قوتیں بھی عطا کر دیں،جن میں قوت عاقلہ قوت غاصبہ قوت دافعہ اور قوت شہویہ شامل ہیں۔ ارتقائے انسانی کا وجود اور کائنات میں زندگی کا پہیہ ان چار قوتوں کے سہارے اپنی منزل کی طرف روا دواں رہتا ہے۔ بعض دفعہ انسان اپنی قوت عاقلہ کو وسائل بڑھانے کے لیے استعمال کرتا ہے اور اپنی زندگی میں ایک خاص مقام حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہا ہوتا ہے۔پھر ایک وقت آتا ہے کہ قوت عاقلہ کے ذریعے وسائل کی فراوانی کو حاصل کرتا ہے اور جب وسائل زیادہ ہو جاتے ہیں تو اپنی سطح کے لوگوں کو ارد گرد اکٹھا کر لیتا ہے۔سب سے بڑی بدبختی اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ وسائل پر قابض ہو کر قوت حاکمہ حاصل کرنے کی ابتدا کرتا ہے اور ارد گرد کے خول ،تکبر اور فرعونی صفت کی وجہ سے وہ حریم اقتدار کو پھلانگ کر اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے اچھے اور برے فیصلے کرتا ہے۔ ان دنوںیہی صورتحال امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہے۔اپنی عجیب حرکات کی وجہ شہرت رکھنے والا امریکی صدر ابتداً اپنے گزشتہ دور حکومت2017تا 2021 میں بھی اپنی فرعونیت کی وجہ سے دنیا میں انتشار کا باعث بنا رہا لیکن امریکہ کے 47ویں صدر بننے کی منزل پر پہنچنے سے پہلے اپنی خواہشات کو ایک نئے رخ پر الیکشن مہم میں ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ دنیا میں جنگوں کے خلاف اور امن کا داعی ہے۔ لیکن جب کرسی اقتدار پر براجمان ہوا تو اس کی’ ذہنی فکری برادری‘ یعنی اس کی تشکیل کردہ کابینہ کے لوگوں نے اسے سخت اقدامات کی طرف اکسایا۔جن میں طوفان الاقصیٰ آپریشن میںحماس کے مجاہدین کی کامیابی کو ایک نئے رنگ میں ناکام بنانے کی کوشش ،اسرائیلی صیہونی ریاست کی انٹیلی جینس ناکامی پر پردہ ڈالنے،اسرائیلی عوام کے غم و غصہ کو ٹھنڈا کرنے انہیں بیوقوف بنانے اور کھنڈرات پر مشتمل تباہ شدہ غزہ کی پٹی کو خالی کروا کر اردن اور مصر میں منتقل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
مجھے بڑے دکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ اتنی بڑی طاقت امریکہ اورعالمی اقتدار پرمسلط ڈونلڈ ٹرمپ نے مضحکہ خیز اعلان کر کے اپنی حکومت کی ناکامی کی ابتدا کردی ہے۔اگر امریکی صدر میں عالمی قوانین اور انسانی اخلاقی اقدار کازرا سا بھی احترام ہوتا توچاہیے تو یہ تھا کہ ان فلسطینی اسکولوں، ہسپتالوں ،مارکیٹوںاور لوگوں کے گھروں کو مسلسل بمباری میں تباہ کرنے والے اسرائیل کو سزا دیتا لیکن ڈھٹائی اور شیطانی صفت کی بنا پرڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا میں ایک نئے مسئلے کو پیدا کرنے کی ابتدا کی ہے۔چاہیے تو یہ تھا کہ فلسطینی عوام کی دل جوئی کی جاتی، اسرائیلی جارحیت پر مظلوموں سے معذرت کی جاتی، عالمی عدالت انصاف اور اقوام متحدہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کرکے نیتن یاہو ، اس کی کابینہ کو جنگی جرائم پر سزا دی جاتی ،قابض صیہونی ریاست سے مقبوضہ علاقوں کو خالی کروایا جاتا ، اسرائیل اور اس کے حمایتی ممالک جن میں امریکہ بھی شامل ہے، ان سے نقصانات کا معاوضہ وصول کرنے کا اعلان کیاجاتا توبین الاقوامی سطح پر ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف کی جاتی۔ 1948ء میں یہودیوں نے ایک سازش کے تحت فلسطینی زمینوں کو ہتھیانے کا سلسلہ شروع کیاتو اسی دن سے فلسطینی اپنے علاقے کو واپس لینے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل بھی یہ جانتے ہیں کہ اب حالات ایسے نہیں کہ فلسطینیوں کو فلسطین اور حماس کو غزہ سے نکال کر اردن اور مصر میں آباد کیا جاسکے ،امریکی صدر کی اس تباہ کن سوچ کو دنیا میں کسی نے بھی پسند نہیں کیا بلکہ مذمت کی ہے۔دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی نیا شوشہ چھوڑا ہے کہ سعودی عرب کے پاس رقبہ بہت زیادہ اور مملکت وسیع ہے، فلسطینیوں کو اپنے ملک میں جگہ دے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک کھل کر اس احمقانہ امریکی اور اسرائیلی تجویز کی مخالفت میں متحد ہو کر اس فارمولے کو نا منظور کریں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ جیسے ٹرمپ نے روسی صدر پیوٹن کے ساتھ بات کر کے یوکرائن کی جنگ ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے اور سعودی عرب کے دارالخلافہ ریاض میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیوکے درمیان ملاقات ہوچکی ہے، جس میں یوکرائن جنگ بندی کرانے پر اتفاق ہوگیا ہے مگر کوئی یوکرائنی نمائندہ اس اہم ملاقات میں شامل نہیںتھا۔امکان کا ظاہر کیا جارہا ہے کہ دونوں بڑی قوتوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان یہ ملاقات روسی صدرپیوٹن اور امریکی صدر ٹرمپ کی ملاقات کے لیے راہ ہموار کرے گی۔ علاوہ ازیں میڈیا میں یہ بات بھی زیر گردش ہے کہ امریکہ ایران کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے حملے کی بجائے مذاکرات کو ترجیح دینا چاہتا ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ ٹرمپ اپنے دور اقتدار میں مذاکرات کے بعد ایران پراقتصادی پابندیوں کو ختم کرنے کا بھی اعلان کرے۔ ہم تو پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ا یران کی اسلامی قیادت ولی امر المسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے امریکہ سے کسی قسم کے مذاکرات پر خبردار کیا ہے، لیکن صدر اسلامی جمہوریہ ایران مسعود پزشکیان مذاکرات کامشروط عندیہ دے چکے ہیں۔ بلکہ وہ یورپی ممالک پر واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ ہم اس مسئلے میں مذاکرات کے لیے آمادہ ہیں ، لیکن امریکہ پہلے مذاکرات کا ماحول پیدا کرے، ایران پر عائد عالمی اقتصادی پابندیاں ہٹائے۔ یہاں تک بھی اطلاع ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلیمان بھی ایران اور امریکہ کے درمیان ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کے لیے سرگرم ہیں،اگر ایسا ہو جائے تویہ اسرائیلی صیہونی حکومت کی بڑی سفارتی ناکامی ہوگی کیونکہ نیتن یاہو ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنے کے لیے مسلسل دباو ¿ ڈال رہا ہے لیکن امریکہ مذاکرات کی طرف راغب نظر آتا ہے۔ یہ واضح رہنا چاہیے کہ 1948ء سے فلسطینی اپنی سرزمین کی واپسی کے لیے کوشاں ہیں۔ جس کے لئے وہ لاکھوں قربانیاںدے چکے ہیں، اپنی سرزمین کی واگزاری کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل کا اردن ، مصر اور سعودی عرب میں فلسطینی عوام کو بسانے کی تجویز کی مخالفت میں خط قابل تعریف ہے۔ میری نظروں سے فلسطین پر جو اب تک موقف گزرا ہے، شاید سعودی عرب کی طرف سے سخت ترین رد عمل انہی کا تصور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر وہ فلسطینیوں کو بسانا چاہتے ہیں تو جفا ،حائفہ اور دیگر شہروں جن پر قبضہ اسرائیل نے کیا ہے وہاں ان کو بسائیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ اگر سعودی عرب اور ایران فلسطین پر ایک موقف اختیار کریں اور باقی اسلامی دنیابھی ان کے پیچھے ہوں تو امت مسلمہ اس دیرینہ مسئلے کو حل کر لے گی۔۔۔END۔۔۔۔