ڈیلس میں مسلم کمیونٹی کے معروف رہنما مروان معروف کو امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) نے حراست میں لے لیا، جس سے کمیونٹی میں شدید غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔
مروان معروف اپنے بیٹے کو اسکول چھوڑنے کے بعد کام پر جا رہے تھے کہ راستے میں ICE ایجنٹس نے انہیں گرفتار کر لیا اور گرین کارڈ درخواست مسترد ہونے کا نوٹس جاری کیا۔مسلم لیگل فنڈ آف امریکا (MLFA) کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی پرانے اور مسترد شدہ الزامات پر مبنی ہے اور وہ اسے امیگریشن اور فیڈرل عدالتوں میں چیلنج کریں گے۔مروان معروف 30 سال سے زائد عرصے سے امریکا میں مقیم ہیں اور نارتھ ڈیلس میں کمیونٹی سروس، نوجوانوں کی رہنمائی، منشیات سے بچاؤ کی مہم، ریڈ کراس اور کورونا وبا کے دوران اسپتالوں میں خوراک کی ترسیل سمیت متعدد سرگرمیوں میں سرگرم رہے ہیں۔ان کی گرفتاری کے بعد مسلم امریکن سوسائٹی کے زیر اہتمام رچرڈسن میں ایک بڑا اجتماع منعقد ہوا جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ امام اور معروف اسلامی اسکالر شیخ عمر سلیمان نے کہا کہ مروان معروف کمیونٹی کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہے اور ان کی رہائی کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔
MLFA کی لیگل ڈائریکٹر مریم الدین نے کہا کہ یہ کیس صرف مروان معروف کا نہیں بلکہ امریکی مسلم کمیونٹی کے آئینی حقوق کا ہے اور قانونی جنگ اس لیے لڑی جا رہی ہے تاکہ کسی کو اس کے مذہبی عقائد یا خیراتی سرگرمیوں کی بنیاد پر نشانہ نہ بنایا جائے۔ICE کی یہ کارروائی صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کے کریک ڈاؤن کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جس میں غیر قانونی تارکین وطن کے ساتھ قانونی اسٹیٹس رکھنے والے افراد بھی ہدف بن رہے ہیں۔