رام اللہ سے موصولہ رپورٹ کے مطابق، فلسطینی تنظیم فتح موومنٹ کے رہنما اور معروف سیاسی قیدی مروان برغوثی پر اسرائیلی جیل اہلکاروں کے تشدد کا انکشاف ہوا ہے۔
اس واقعے کے نتیجے میں ان کی چار پسلیاں ٹوٹ گئی ہیں۔غیرملکی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی حکام نے مروان برغوثی کی رہائی روکنے کے بعد انہیں جیل میں تشدد کا نشانہ بنایا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے، اور کہا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور قیدیوں کے انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔مروان برغوثی 2003 سے اسرائیل کی قید میں ہیں اور فلسطینی عوام کے درمیان بہت مقبول سیاسی رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ وہ مغربی کنارے اور غزہ دونوں علاقوں میں فلسطینی مزاحمت کی علامت بن چکے ہیں۔
دوسری طرف، غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں جنگ بندی کے باوجود جاری ہیں، جن میں تازہ فائرنگ کے نتیجے میں مزید چار فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔ اب تک، جنگ بندی کے آغاز سے لے کر اب تک شہدا کی تعداد 23 ہو چکی ہے۔ادھر، حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری کے باعث یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی میں تاخیر ہو رہی ہے کیونکہ تباہ شدہ سرنگوں میں موجود ملبہ ہٹانے کے آلات اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے دستیاب نہیں ہیں۔