منصوبے کی سب سے بڑی رکاوٹ نجی اراضی کا عدم حصول بن گئی
لاہور (خصوصی رپورٹ)نیلم روڈ پیکیج ون کے تحت سڑک، انڈر پاس اور الائنمنٹ کا کام ایک ساتھ مکمل کیا جا رہا ہے۔تاہم منصوبے کو درکار اراضی کی عدم دستیابی نے تعمیراتی رفتار کو شدید متاثر کر دیا ہے۔اگر آئندہ چند ماہ میں زمین ایکوائر نہ ہوئی تو شہر کا یہ اہم منصوبہ تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایل ڈی اے کی جانب سے لاہور کے سٹرکچر پلان کے تحت نیلم روڈ پیکیج ون پر تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں۔پیکیج ون کی کل لمبائی 4 ہزار 889 میٹر رکھی گئی ہے، جس میں 610 میٹر کا انڈر پاس بھی شامل ہے۔منصوبے کی مجموعی لاگت دو ارب 89 کروڑ 40 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہیاور اسے چھ ماہ میں مکمل کیا جانا تھا۔دو ماہ قبل اس منصوبے کی گرائونڈ بریکنگ ہو چکی ہے،جبکہ اب تک صرف چار ماہ کا وقت باقی رہ گیا ہے۔تاہم منصوبے کی سب سے بڑی رکاوٹ نجی اراضی کا عدم حصول بن گئی ہے۔ایل ڈی اے کے ریکارڈ کے مطابق پیکیج ون کے لیے 760.95 میٹر پرائیویٹ لینڈ تاحال ایکوائر نہیں ہو سکی۔