حکومت مذہبی جماعتوں کے خلاف نہیں، ٹی ایل پی انتشار پھیلا رہی تھی عظمیٰ بخاری

ٹی ایل پی کو ایک منظم پراجیکٹ کے طور پر لانچ کیا گیا تھا، جو سرگرمیاں وہ انجام دے رہے تھے وہ سیاسی احتجاج نہیں بلکہ امن و امان خراب کرنے کی کوششیں تھیں
ماضی میں بعض جماعتیں پابندی کے بعد نام تبدیل کر کے سرگرم ہو جاتی تھیں،  اس بار ایسا نہیں ہوگا‘ حکومت نے خصوصی پراسیکیوٹر سیل تشکیل دیدیا:وزیراطلاعات
لاہور(سپیشل رپورٹر‘ایجنسیاں)صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے  حکومت مذہبی جماعتوں کے خلاف نہیں ہے، ٹی ایل پی سیاست نہیں انتشار پھیلا رہی تھی۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے واضح کیا  حکومت کسی مذہبی تنظیم یا جماعت کے خلاف نہیں  ہے بلکہ اس مخصوص ذہنیت کے خلاف اقدامات کر رہی ہے جو ملک میں انتشار کا سبب بن رہی ہے۔  ٹی ایل پی کو ایک منظم پروجیکٹ کے طور پر  لانچ کیا گیا تھا اور جو سرگرمیاں وہ انجام دے رہے تھے وہ سیاسی احتجاج نہیں  تھا بلکہ امن و امان خراب کرنے کی کوششیں تھیں، جنہیں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ماضی میں بعض جماعتیں پابندی کے بعد نام تبدیل کر کے سرگرم ہو جاتی تھیں، لیکن اس بار حکومت نے ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی پراسیکیوٹر سیل تشکیل دے دیا ہے تاکہ ملوث عناصر کو تیزی سے قانونی کٹہرے میں لایا جا سکے۔  اس سیل کے ذریعے شواہد کی بنیاد پر تحقیقات اور مقدمات کی قانونی پیروی ممکن بنائی جائے گی۔ ٹی ایل پی کی قیادت سے متعلق اطلاعات کے مطابق وہ پنجاب میں موجود نہیں  کیوں کہ اس طرح کے لوگ گرفتاری سے بچنے کے لیے جگہیں بدلتے رہتے ہیں ، تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے انہیں ٹریس کر رہے ہیں اور جلد ہی گرفتاریوں کی خبریں سامنے آنے کا امکان ہے۔