پختونخوا اسمبلی :عمرانخان سے وفاق کے رویہ کیخلاف ارکان کا احتجاج

عدالتی اجازت کے باوجود اہلِ خانہ سے ملاقات کا حق نہیں دیا جارہا، ارکان اسمبلی 
کراچی میں پختون ٹرانسپورٹرز کو درپیش مشکلات پر متفقہ طور پر قرارداد منظور 
پشاور(خصوصی رپورٹ)خیبر پختونخوا اسمبلی میں حکومتی اراکین نے سابق وزیراعظم عمران خان کی مبینہ ’’غیرقانونی حراست‘‘،عدالتی احکامات کی عدم تعمیل اور صوبائی قیادت کے ساتھ روا رکھے گئے رویے پر شدید احتجاج کیا ہے ،جبکہ مختلف اراکین نے وفاق اور صوبائی حکومت کے بڑھتے تناوٓ کو صوبے کے بگڑتے حالات کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے فوری اصلاحات، باہمی اعتماد اور ادارہ جاتی احترام کی ضرورت پر زور دیاہے۔ اجلاس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی ’’ناحق قید‘‘، عدالتی احکامات کی مبینہ خلاف ورزی اور صوبائی قیادت کے ساتھ پیش آنے والے رویے پر شدید تنقید کی گئی۔ نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے ایم پی اے عبدالاسلام آفریدی نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو عدالتی اجازت کے باوجود اہلِ خانہ سے ملاقات کا حق نہیں دیا جارہا، جبکہ اڈیالہ جیل کے باہر ان کی بہنوں اور رہنماوٓں کے ساتھ پولیس نے ’’غیرانسانی سلوک‘‘ اور تشدد کیا۔صورتحال اس نہج پر نہ پہنچائی جائے کہ صوبہ ردعمل میں گیس و بجلی بند کرنے پر مجبور ہوجائے۔ ملک لیاقت نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں آئین پامال ہورہا ہے اور عدالتیں مفلوج ہوچکی ہیں، عمران خان پر جھوٹی ایف آئی آرز درج کی جارہی ہیں کیونکہ حکومت ان سے خوفزدہ ہے۔کراچی میں پختون ٹرانسپورٹرز کو درپیش مشکلات پر صوبائی اسمبلی نے متفقہ طور پر قرارداد منظور کرلی، جس میں انتظامی پابندیوں، محدود اوقاتِ کار اور مبینہ امتیازی کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پختون کمیونٹی کو منصفانہ معاشی مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔