ایم کیو ایم کے وفاقی وزراء ، ارکان اسمبلی اور رہنمائوں کی سکیورٹی واپس حکومتی ارکان کے پاس بھی سیکورٹی نہیں:سندھ حکومت

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کی بھی سکیورٹی واپس لے لی گئی‘وزارت داخلہ  سندھ نے سکیورٹی اہلکاروں کو فوری واپس آنے کی ہدایت کر دی
 یہ سمجھتے ہیں سکیورٹی لے کر ہمیں ڈرا لیں گے لیکن ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا ،، وفاق کو آرٹیکل 148 کے تحت کراچی کو کنٹرول میں لینا چاہئے:مصطفی کمال  
کراچی (آ ئی این پی )سندھ حکومت  کی جانب سے  ایم کیو ایم پاکستان کے وفاقی وزرا، ارکان اسمبلی اور رہنمائوں کی سکیورٹی اچانک  واپس لے لی گئی جبکہ سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید کا کہنا ہے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنمائوں سے سکیورٹی واپس لینے کی یقینا کچھ وجوہات ہوں گی۔تفصیل کے مطابق  وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی، مصطفی کمال، امین الحق، فاروق ستار، انیس قائم خانی    سکیورٹی سے محروم ہو گئے، سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کی بھی سکیورٹی واپس لے لی گئی۔وزارت داخلہ  سندھ نے سکیورٹی اہلکاروں کو فوری واپس آنے کی ہدایت کر دی۔دوسری جانب   ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید کا کہنا تھا شہر میں پولیس کم ہے، ہوسکتا ہے اس وجہ سے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنمائوں سے پولیس سکیورٹی واپس لی گئی ہو۔ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا میرے پاس کوئی پولیس سکیورٹی نہیں ہے، سندھ کے حکومتی ایم پی ایز کے پاس بھی کوئی سکیورٹی نہیں ہے‘وفاقی وزیر صحت اور رہنما ایم کیو ایم مصطفی کمال نے کئی ایم کیو ایم رہنمائوں  کی سیکیورٹی واپس لینے کی تصدیق کر  تے ہوئے کہا ہے کہ   مجھ سے بھی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے، یہ سمجھتے ہیں سیکیورٹی لے کر ہمیں ڈرا لیں گے لیکن ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ایک انٹرویو میں  انہوں نے کہا کہ ہمارے موقف کی تائید ہوگئی ہے کہ وفاق کو آرٹیکل 148 کے تحت کراچی کو کنٹرول میں لینا چاہیے، وفاق ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کراچی کو کنٹرول کر سکتا ہے