منفی درجہ حرارت، برف باری اور تیز ہواں کے باوجود دو کلومیٹر طویل قطاریں ، اختتام پر بھی ہزاروں لوگ لائن میں موجود تھے
اوٹاوا(آ ئی این پی )کینیڈا میں ہونے والے خالصتان ریفرنڈم کے تازہ ترین مرحلے میں کینیڈا کے چار صوبوں سے تعلق رکھنے والے 53 ہزار سے زائد کینیڈین سکھوں نے ووٹ ڈالے۔یہ غیر سرکاری عالمی ووٹنگ مہم علیحدگی پسند تنظیم سکھس فار جسٹس (ایس ایف جے )کی جانب سے منظم کی گئی تھی، اونٹاریو، البرٹا، برٹش کولمبیا اور کیوبیک کے سکھ ووٹرز میگ نیب کمیونٹی سینٹر میں جمع ہوئے، جہاں منفی درجہ حرارت، برف باری اور تیز ہواں کے باوجود دو کلومیٹر طویل قطاریں لگی رہیں، سہ پہر 3 بجے پولنگ کے سرکاری اختتام پر بھی ہزاروں لوگ لائن میں موجود تھے، جس پر حکام نے تمام ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کا موقع دینے کے لیے عمل کو جاری رکھا۔سکھس فار جسٹس نے اسے کینیڈا کا خالصتان پر ریفرنڈم قرار دیا اور اسے کینیڈا کی حکومت کے بھارت کے ساتھ تعلقات کے طریقہ کار پر عوامی ردِعمل کے طور پر پیش کیا، گروپ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ وزیرِ اعظم مارک کارنی کی حکومت نے اسی روز بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ساتھ جی-20 تجارتی مذاکرات کیوں کیے، خصوصا ایسے وقت میں جب کینیڈین انٹیلیجنس ایجنسیاں بھارتی سرکاری اہلکاروں پر قتل کی سازشوں، غیر ملکی مداخلت اور کینیڈین شہریوں کو نشانہ بنانے والے جرائم پیشہ نیٹ ورکس میں ملوث ہونے کے الزامات لگا چکی ہیں