غزہ پر اسرائیلی بمباری سے38فلسطینی ،لبنان میں 54افراد شہید

ایندھن کی کمی کے باعث ہسپتال بند ہونے کا خدشہ ہے، محکمہ صحت،امریکی میڈیا کا شام پر اسرائیلی بمباری میں سینئر حزب اللہ کمانڈر کی شہادت کا دعویٰ 
جنوبی لبنان میں صیہونی زمینی فوج کی جھڑپیں بھی جاری ، کمال عدوان ہسپتال پرحملے میں بجلی منقطع ، اسرائیلی ماہرِ آثارِ قدیمہ حزب اللہ کے حملے میں ہلاک 
غزہ؍بیروت؍واشنگٹن(آئی این پی)غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری سے مزید 38فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ لبنان میں بمباری کے نتیجے میں طبی عملے کے7 اہلکاروں سمیت 54افراد شہید ہوگئے ۔امریکی میڈیا نے شام پر اسرائیلی بمباری میں سینئر حزب اللہ کمانڈر کی شہادت کا دعویٰ کیا ہے ۔غزہ کے محکمہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ 24گھنٹوں میں ایندھن کی کمی کے باعث ہسپتال کے بند ہونے کا خدشہ ہے جبکہ غزہ میں قحط جیسی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔دوسری جانب لبنان کے علاقے بعلبک میں اسرائیلی حملے سے 47شہری شہید جبکہ جنوبی لبنان کے طائر شہر پر حملے میں طبی عملے کے 7ارکان شہید ہوگئے، اٹلی سے تعلق رکھنے والے 4 اقوام متحدہ امن فوج کے اہلکار بھی زخمی ہوئے۔اس کے علاوہ حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر جوابی حملے کیے جس کے نتیجے میں میزائل حملے میں ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگیا۔بالبک شہر میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں دارالعمل یونی ورسٹی ہسپتال کے ڈائریکٹر جنرل سمیت طبی عملے کے سات اہلکار شہید ہوگئے جبکہ جنوبی علاقے میں صیہونی زمینی فوج کی جھڑپیں بھی جاری ہیں۔کمال عدوان ہسپتال پر بھی اسرائیلی حملے جاری ہیں جس کے نتیجے میں جنریٹر تباہ ہونے سے ہسپتال کی بجلی منقطع ہوگئی ہے۔ محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث ایندھن ختم ہوگیا ہے جبکہ غزہ کے تمام ہسپتال کسی بھی وقت بند ہو سکتے ہیں۔لبنان میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والا اسرائیلی ماہرِ آثارِ قدیمہ حزب اللہ کے حملے میں ہلاک ہو گیا۔71 سالہ زیوو ایرلک اسرائیلی فوج کے ساتھ لبنان کے ایک قدیم قلعے کا معائنہ کرنے کیلئے غیر قانونی طور پر لبنان میں داخل ہوا تھا۔