11 سالہ طالب علم کی بازیابی کے لئے لواحقین، انجمن تاجران اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے احتجاج اور دھرنے کا سلسلہ آج گیارھویں روز بھی جاری ہے۔
اس دوران دھرنا کمیٹی کی کال پر صوبے کی اہم شاہراہوں پر پہیہ جام ہڑتال کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے۔
اہم شاہراہوں کی بندش:
احتجاج کے دوران بلیلی، میاں غنڈی، دشت میں قومی شاہراہیں بلاک کر دی گئی ہیں، جبکہ کراچی قومی شاہراہ، کوئٹہ، سبی، جیکب آباد شاہراہ اور چمن کوئٹہ شاہراہ بھی بند کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، دیگر شہروں اور علاقوں میں بھی احتجاج کے دوران سڑکوں کو بلاک کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
تعلیمی اداروں میں تعطیل:
پہیہ جام ہڑتال کے باعث آج صوبے بھر میں تعلیمی اداروں میں تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ نجی و سرکاری اسکولوں، کالجز اور جامعات میں تدریسی عمل معطل رہا، اور طلباء کو آج چھٹی دی گئی ہے۔
چمن ٹرین کی منسوخی:
مغوی بچے کی عدم بازیابی کے خلاف احتجاج کی وجہ سے چمن جانے والی ٹرین بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔ ریلوے انتظامیہ کے مطابق، آج کوئٹہ سے چمن کے لیے مسافر ٹرین کی روانگی منسوخ کردی گئی ہے، تاہم کل سے ٹرین سروس معمول کے مطابق بحال ہو جائے گی۔
مستونگ میں بھی احتجاج:
مستونگ میں بھی طالبعلم کی عدم بازیابی کے خلاف پہیہ جام ہڑتال جاری ہے اور کراچی شاہراہ لک پاس اور دیگر علاقوں میں ٹریفک کو بند کر دیا گیا ہے۔ مستونگ میں آل پارٹیز کے رہنماؤں کی قیادت میں قومی شاہراہ پر دھرنا دیا جا رہا ہے۔ احتجاج کی وجہ سے مستونگ میں تعلیمی ادارے بھی بند ہیں اور ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے۔
مجموعی صورتحال:
مغوی طالب علم کی بازیابی کے لیے ہونے والے اس احتجاج میں عوام اور سیاسی جماعتوں کی بڑی تعداد شامل ہے، اور اس دوران مختلف علاقوں میں سڑکوں کی بندش اور ٹریفک کی مشکلات کا سامنا ہے۔ دھرنا دینے والے افراد کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر مغوی طالب علم کو بازیاب کرائے اور اس کی حفاظت کو یقینی بنائے۔