عمران خان سمیت 45 افراد کے خلاف دہشت گردی کے الزامات میں مقدمہ درج

عمران خان سمیت 45 افراد کے خلاف دہشت گردی کے الزامات میں مقدمہ درج

ویب ڈیسک:فیصل آباد کے تھانہ غلام محمد آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان سمیت 45 افراد پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

 یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کی دفعات 7 اور دیگر 13 دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے، جن میں عوامی املاک کو نقصان پہنچانے، پولیس اہلکاروں پر حملے اور دہشت گردی کے الزامات شامل ہیں۔پولیس کے مطابق، پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہروں کے دوران 35 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں یہ الزام عائد کیا گیا کہ مظاہرین نے عمران خان کے اکسانے پر امن و امان کو پامال کیا اور دہشت گردی کی کارروائیاں کیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے اہم راستوں کو بھی دوسرے روز بند کر دیا ہے، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اس دوران پی ٹی آئی کے احتجاج کے سلسلے میں خیبر پختونخوا سے اسلام آباد آنے والے قافلے نے ہزارہ انٹرچینج سے سفر شروع کر دیا ہے۔ اس احتجاج کا مقصد اسلام آباد میں حکومت کے خلاف دباؤ ڈالنا اور اپنی سیاسی تحریک کو آگے بڑھانا ہے۔ پی ٹی آئی کے احتجاجی قافلے نے پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے بعد راستوں کو بند کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔مظاہروں اور جھڑپوں کے دوران پولیس کی کارروائیاں اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کا احتجاجی ردعمل ایک نیا سیاسی بحران پیدا کر چکا ہے، جس کی وجہ سے ملک میں سیاسی غیر یقینی کی صورتحال میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔