کراچی میں نمائش چورنگی پر دھرنے اور پولیس کے ساتھ تصادم کے بعد 300 سے زائد افراد کے خلاف دہشت گردی کے مقدمے کا اندراج کیا گیا ہے۔
مقدمہ سولجربازار تھانے میں درج کیا گیا ہے، جس میں 5 نامزد اور 300 نامعلوم افراد کے خلاف ہنگامہ آرائی، اقدام قتل، بلوہ، انسداد دہشت گردی اور پولیس پر حملے کی دفعات شامل ہیں۔مشتعل مظاہرین نے پولیس پر لاٹھیوں، پتھروں اور فائرنگ سے حملہ کیا۔ اس دوران 6 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جن میں سب انسپکٹر راجا خالد بھی شامل ہیں۔ پتھراؤ کے دوران پولیس موبائل کو نقصان پہنچا اور متعدد موٹر سائیکلیں جلا دی گئیں۔اسی دوران انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت نے نمائش چورنگی دھرنے سے گرفتار 19 ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
ان ملزمان میں 4 کم عمر افراد بھی شامل تھے۔ پولیس نے عدالت میں بیان دیا کہ ملزمان کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا، اور پتھراؤ کے دوران تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔عدالت نے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بلوے اور احتجاج کے دوران قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا جا سکتا۔ عدالت نے ملزمان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اور پولیس کی عزت اور قانون کی اہمیت پر زور دیا۔