اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد رہنماؤں کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
اس مقدمے میں عمران خان، بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور، اور دیگر اہم رہنماؤں کو نامزد کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ تھانہ کوہسار میں ایس ایچ او کورال کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس میں انسداد دہشت گردی، اقدام قتل، ڈکیتی، اغوا سمیت 25 مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔ایف آئی آر کے مطابق، پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے سرکاری و نیم سرکاری افسران کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ بشریٰ بی بی کے وڈیو بیان کی بنیاد پر، مظاہرین نے ریڈ زون تک پہنچنے کے لیے کارروائی کی، اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ ایف آئی آر میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ مظاہرین کے اس عمل کے نتیجے میں شہری اپنے گھروں میں محصور ہو گئے اور خوف و ہراس کی صورتحال پیدا ہو گئی۔
مقدمے میں پی ٹی آئی کے مختلف رہنماؤں کے علاوہ دیگر اہم شخصیات بھی شامل ہیں جن میں چترال کے ایم این اے عبداللطیف، سینیٹر فیصل جاوید، علی زمان بونیر، سابق سپیکر اسد قیصر، سابق وزیر مراد سعید، ذلفی بخاری اور سلمان اکرم راجا جیسے افراد شامل ہیں۔ ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا کہ ملزمان نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا اور ان کے خلاف گھناؤنی سازش تیار کی۔یہ مقدمہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف دہشت گردی کے الزامات کے تحت درج کیا گیا ہے، جس میں ان پر مظاہرین کی قیادت اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تشدد میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔