اہلکاروں نے برگر کھائے اور پیک کروائے ، پیسے مانگے تو آپے سے باہر ہو گئے :دکاندار اعجاز
ڈی آئی جی آپریشنز کا نوٹس متعلقہ ایس پی کو تحقیقات اور رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا
لاہور(کرائم رپورٹر)پیسے مانگے پر تھانہ گڑھی شاہو کے پولیس اہلکاروں کا برگر شاپ کے مالک اور اس کے بیٹے پر تشدد کا واقعہ سامنے آیا ہے۔دکاندار اعجاز نے بتایا کہ گزشتہ رات ساڑھے 8 بجے پولیس اہلکار برگر کھانے کیلئے ان کی دکان پر آئے۔ اہلکاروں نے برگر کھائے اور پیک کروائے تاہم جب اعجاز نے پیسے مانگے تو اہلکاروں نے اسے دھمکیاں دینی شروع کر دیں۔اعجاز کے مطابق ایک اہلکار سادہ کپڑوں میں تھا جبکہ دوسرے نے وردی پر سادہ شرٹ پہن رکھی تھی۔ اہلکاروں نے کہا کہ "لاک ڈاؤن میں ڈائننگ کیسے چلا رہے ہو؟" اور دھمکی دی کہ ابھی پرچہ دے دیں گے۔ پھر انہوں نے اعجاز کو دکان سے باہر گھیسٹتے ہوئے نکال دیا اور اس کے بیٹے پر بھی تشدد کیا۔دکاندار نے 15 پر کال کی مگر کوئی مدد نہ ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کی بجائے اہلکاروں نے ان کی پشت پناہی کی۔ اعجاز نے پولیس افسران سے مطالبہ کیا کہ تشدد میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور ان کی شکایت کا نوٹس لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ڈائننگ کا ٹائم 10 بجے تک رکھا ہے اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان کی دکان کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، ۔گڑھی شاہو میں پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر مفت برگر کھانے کی خبر سامنے آنے کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز لاہورنے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ایس پی کو تحقیقات کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ڈی آئی جی آپریشن لاہور فیصل کامران نے کہا کہ خبر میں مبینہ طور پر 15 کال کے رسپانس نہ آنے کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر پولیس اہلکاروں کا اختیارات سے تجاوز ثابت ہوا تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ڈی آئی جی آپریشن لاہورفیصل کامران نے یہ بھی کہا کہ اختیارات سے تجاوز کرنے والے اہلکاروں کی محکمہ میں کوئی جگہ نہیں اور لاہور پولیس میں اندرونی احتساب کا عمل سختی سے جاری ہے۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ محکمے کی بدنامی کا سبب بننے والی کالی بھیڑوں کو ہر صورت بے نقاب کیا جائے گا۔