پنجاب بھر میں خواتین کی ڈرائیونگ اور الیکٹرک بائیکس کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، تاہم سڑکوں پر ہراسانی اور بدتمیزی کے واقعات بھی بڑھنے لگے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق راہ چلتی خواتین اور رائیڈرز کو مردوں کی جانب سے اسٹاکنگ، خطرناک ڈرائیونگ اور خوفزدہ کرنے جیسے رویوں کا سامنا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 میں 80 ہزار سے زائد خواتین نے سڑکوں اور عوامی مقامات پر ہراسانی اور دیگر مسائل کی شکایات درج کروائیں، جبکہ 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر ایک لاکھ تک پہنچ گئی۔ رواں سال 2026 کے ابتدائی 4 ماہ میں ہی 25 ہزار سے زائد شکایات سامنے آ چکی ہیں۔صرف لاہور میں 90 فیصد خواتین رائیڈرز کا کہنا ہے کہ مرد ڈرائیور جان بوجھ کر ان کے قریب گاڑیاں یا موٹر سائیکلیں چلاتے ہیں تاکہ انہیں خوفزدہ کیا جا سکے۔
مقامی یونیورسٹی کی ماہرِ نفسیات پروفیسر ڈاکٹر طاہرہ ملک کے مطابق جن علاقوں میں خواتین رائیڈرز کی تعداد زیادہ ہو وہاں خواتین پٹرولنگ افسران تعینات کی جانی چاہئیں۔اسکوٹی استعمال کرنے والی ملازمت پیشہ خاتون اقراء نے بتایا کہ بعض مرد ڈرائیور یہ برداشت نہیں کرتے کہ کوئی خاتون ان سے آگے نکل جائے، جس پر وہ انا کا مسئلہ بنا کر خطرناک انداز میں کٹ مارتے ہیں۔ٹریفک انسپکٹر حمیرہ رفاقت کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر موجود افراد کو اخلاقیات اور ذمہ دارانہ رویے سکھانا سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔