ڈیزل کی قیمتوں میں کمی،کینیا میں پبلک ٹرانسپورٹ آپریٹرز نے ہڑتال کی کال واپس لے لی

نیروبی(آئی این پی )کینیا میں پبلک ٹرانسپورٹ آپریٹرز نے آئندہ ہفتے کی مجوزہ ہڑتال واپس لے لی ہے ۔یہ فیصلہ صدر ولیم روٹو کی جانب سے ڈیزل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد کمی کے اعلان کے بعد کیا گیا ۔غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطباق گزشتہ ہفتے ملک میں پبلک ٹرانسپورٹ آپریٹرز نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف دو روزہ ہڑتال کی تھی، جس کے باعث دارالحکومت نیروبی میں معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں اور حالات احتجاجی مظاہروں اور پولیس جھڑپوں تک پہنچ گئے، ان جھڑپوں میں چار افراد ہلاک اور تقریبا 30 افراد زخمی ہوئے۔ صدر رٹو نے ٹیلی وژن پر خطاب میں اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت جون تا جولائی قیمتوں کے تعین کے مرحلے میں ڈیزل کی قیمت میں 10 کینین شلنگ فی لیٹر کمی کرے گی اس سے قبل بھی حکومت نے ہڑتال کے ردعمل میں جزوی ریلیف دیتے ہوئے قیمتوں میں کمی کی تھی۔ حکومت ہر ماہ ایندھن کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت مقرر کرتی ہے، گزشتہ ماہ ڈیزل کی قیمت میں 23.5 فیصد اضافہ کیا گیا تھا، تاہم حالیہ کمی کے باوجود مجموعی طور پر ایندھن کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں۔ صدر رٹو نے کہا کہ اپریل سے جون کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں ریلیف دینے کے لیے حکومت نے تقریبا 28.1 ارب کینین شلنگ خرچ کیے ہیں،انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کے دبا کے باوجود حکومت نے بین الاقوامی معاہدوں کے ذریعے ایندھن کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی ہے۔ کینیا پہلے ہی بلند مہنگائی اور بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت کے باعث سیاسی و معاشی دبا کا شکار ہے اور صدر رٹو کو 2027 کے انتخابات سے قبل عوامی احتجاج کا سامنا ہے۔