ہائپرسونک اوریشنک بیلسٹک میزائل سمیت مختلف جدید ہتھیار استعمال کیے جا سکتے ہیں، یوکرینی صدر
ماسکو،کیف (آئی این پی )روس نے اسکول ہاسٹل پر حملے کے جواب میں یوکرینی دارالحکومت کیف اور اوڈیسا پر میزائل اور ڈرون حملے کئے ہیں ۔غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کیف پر ہائپرسونک اور شنک میزائلوں سے حملے کیے گئے، دھماکوں کی آوازیں دارالحکومت کیف سے کئی کلو میٹر دور تک سنی گئیں، کئی افراد نے انڈر گرائوہ نڈ میٹرو اسٹیشنز میں پناہ لے لی۔ یاد رہیکہ روس نے الزام عائد کیا تھاکہ یوکرین نے لوہانسک ریجن میں اسکول ہاسٹل پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 21 افراد ہلاک اور 63 زخمی ہوئے، روسی صدر پیوٹن نے یوکرین کو سخت جواب دینے کیلئے فوج کو تیار رہنے کا حکم دیا تھا۔دوسری جانب یوکرین نے روسی الزامات کی سختی سے تردید کی تھی۔دوسری جانب یوکرین کے صدر ولادیمیرزیلسنکی نے دعوی کیا ہے کہ روس یوکرین، خصوصا دارالحکومت کیف پر بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے، جس میں ہائپرسونک اوریشنک بیلسٹک میزائل سمیت مختلف جدید ہتھیار استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ صدر زیلنسکی کے مطابق یہ معلومات یوکرین، امریکا اور یورپی ممالک کی انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ روس مشترکہ نوعیت کے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جن میں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی شامل ہو سکتے ہیں۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل روسی صدر ولادیمیرپیوتن نے مشرقی یوکرین کے روس کے زیر قبضہ علاقے لوہانسک میں طلبہ کے ہاسٹل پر ڈرون حملے کے بعد جوابی کارروائی کے آپشنز تیار کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم یوکرینی فوج نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔زیلنسکی نے کہا کہ روس کی جانب سے ایسے ہتھیاروں کا استعمال نہ صرف جنگ کو طول دے رہا ہے بلکہ دنیا بھر میں ممکنہ جارح ممالک کے لیے خطرناک مثال بھی قائم کر رہا ہے۔ انہوں نے امریکا اور یورپی اتحادیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بعد از وقوع ردعمل کے بجائے پیشگی اقدامات کریں تاکہ روس کو مزید کشیدگی بڑھانے سے روکا جا سکے۔