اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ملک کو بچانے کے لیے ضروری ہے: ایم کیو ایم پاکستان

اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ملک کو بچانے کے لیے ضروری ہے: ایم کیو ایم پاکستان

کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنماؤں نے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو ملکی بقا کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے حکومت سے بلدیاتی نظام کو بااختیار بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مرکزی کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جاگیردارانہ طرز کی جمہوریت قائم ہے، جبکہ ملک کو مضبوط بنانے کے لیے اختیارات گلی محلوں تک منتقل کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی مزاحمت کی ایک بڑی وجہ وہاں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ہے اور پاکستان میں بھی ایسا نظام نافذ کیا جانا چاہیے۔خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ اگر دشمن نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو کراچی پہلا نشانہ بن سکتا ہے، اس لیے شہر کو مضبوط اور منظم بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ 28ویں آئینی ترمیم متعارف کرا کر بلدیاتی نظام کو مکمل اختیارات دیے جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم جمہوریت کے تسلسل کے لیے حکومت کے ساتھ کھڑی ہے، تاہم حکومت کو بھی عوامی اختیارات کی منتقلی کے مطالبے پر واضح مؤقف دینا ہوگا۔

پریس کانفرنس میں ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ملک میں جاگیردارانہ جمہوریت کو شراکتی اور شمولیتی جمہوریت میں تبدیل کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ ان کے مطابق عوام کو اپنی تقدیر کے فیصلوں میں براہ راست کردار دینا ضروری ہے اور بااختیار بلدیاتی نظام ہی ملک کے مسائل کا حل ہے۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ موجودہ نظام میں صرف چار وزرائے اعلیٰ کے ذریعے پورے ملک کو چلانا ممکن نہیں، جبکہ پاکستان کے تقریباً 400 شہروں کو بااختیار مقامی حکومتوں کے ذریعے ہی مؤثر انداز میں چلایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں مقامی سطح پر مضبوط سول انتظامیہ قومی سلامتی کے لیے بھی ضروری ہے۔ایم کیو ایم رہنماؤں نے کہا کہ گل پلازہ کے متاثرین کے ساتھ بھی جماعت کھڑی ہے اور ان کے حقوق کے لیے ہر ممکن آواز اٹھائی جائے گی۔