وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں ستھرا پنجاب پروگرام کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں، سپیشل سیکرٹری آسیہ گل اور پنجاب کی تمام ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے سی ای اوز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ہر تحصیل میں افرادی قوت، مشینری کی دستیابی اور مانیٹرنگ میکانزم کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے ہدایت دی کہ سٹاف کی حاضری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ حاضری لگانے کے بعد عملہ صفائی متعلقہ جگہ پر کام کر رہا ہے۔ذیشان رفیق نے اس بات پر زور دیا کہ ستھرا پنجاب ایک بہت بڑا پروگرام ہے اور اس کی مؤثر مانیٹرنگ صرف ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی بھرپور مدد سے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیاں مانیٹرنگ آفیسرز کی روزانہ رپورٹ کنٹرول روم کو بھیجیں۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ اگر کوئی گاڑی ٹریکر کے بغیر پائی گئی تو اس کے کنٹریکٹر کو جرمانہ کیا جائے گا۔ انہوں نے ستھرا پنجاب پروگرام میں مسلسل بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا۔سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں نے سی ای اوز کو ہدایت کی کہ مانیٹرنگ میکانزم میں بہتری لانے کے لیے پی آئی ٹی بی سے رابطہ کیا جائے تاکہ ڈیٹا بروقت مرکزی کنٹرول روم میں ظاہر ہو سکے۔