ماحولیاتی نظام خطرناک حد تک عدم توازن کا شکار ہو چکا :رپورٹ میں انکشاف
نیویارک (آئی این پی) اقوامِ متحدہ کے موسمیاتی ادارے عالمی محکمہ موسمیات نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2015 سے 2025 تک کا عرصہ زمین کی تاریخ کا سب سے زیادہ گرم عشرہ رہا ہے جبکہ ماحولیاتی نظام خطرناک حد تک عدم توازن کا شکار ہو چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ 11 برس انسانی تاریخ کے گرم ترین سال ثابت ہوئے، سال 2025 میں زمین میں جمع ہونے والی حرارت ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی جس کے اثرات ہزاروں سال تک برقرار رہنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ عالمی موسمیاتی نظام ہنگامی حالت میں داخل ہو چکا ہے اور زمین اپنی قدرتی حدود سے آگے دھکیلی جا رہی ہے، مسلسل گرم ترین برس اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ فوری اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔عالمی محکمہ موسمیات کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور نائٹرس آکسائیڈ جیسی گرین ہاس گیسز کی مقدار گزشتہ کم از کم 8 لاکھ برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جس نے زمین کے قدرتی توانائی توازن کو متاثر کیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماہرین کے مطابق زمین پر آنے والی شمسی توانائی اور واپس خلا میں جانے والی حرارت کے درمیان فرق بڑھ رہا ہے جسے توانائی عدم توازن کہا جاتا ہے اور یہ 2025 میں نئی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئی