حرمین شریفین کا دفاع جان سے بھی عزیز ہے یقین ہے مذاکرات سے پائیدار امن آئیگا شہبازشریف
حالیہ کشیدہ صورتحال میں پاکستان نے انتہائی متوازن اور اصولی موقف اختیار کیا، فیلڈ مارشل کی قیادت میں بہترین سفارتی کوششوں سے 1979 کے بعدپہلی ایران امریکہ بات چیت اورنتیجے میں جنگ بندی ہوئی
علمائے کرام کو امت مسلمہ میں اتحاد اور ہم آہنگی کے فروغ کے لئے زیادہ متحرک کردار ادا کرنا ہو گا ‘ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ حرمین شریفین کے دفاع کی تجدید ہے : بین الاقوامی اسلامی سربراہی کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد (آن لائن) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے حالیہ کشیدہ صورتحال میں پاکستان نے انتہائی متوازن اور اصولی موقف اختیار کیا ، دنیا نے پاکستان پر تاریخی اعتماد کیا ۔ فیلڈ مارشل کی قیادت میں بہترین سفارتی کوششوں سے ایران اور امریکہ کے درمیان 1979 کے بعدپہلی براہ راست بات چیت اور اس کے نتیجے میںعارضی جنگبندی ہوئی ۔ یقین ہے فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل خطے میں پائیدار امن لائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں چھٹی بین الاقوامی اسلامی سربراہی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وزیراعظم نے کہاکہ اسلام امن کا دین ہے ۔ پیغمبر اسلام کی حیات طیبہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے ۔ انہوں نے کہا پاکستان عالمی سطح پر امن، مکالمے اور اعتماد کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کانفرنس کے انعقاد پر پاکستان علماء کونسل اور بین الاقوامی تحفظِ حرمین کونسل کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ اجتماع امت مسلمہ کے بہترین اتحاد کی جھلک پیش کر رہا ہے یہ اجتماع مسائل کے حل کے لئے انتہائی اہم ثابت ہو گا ۔ انہوں نے کہا کانفرنس کا انعقاد ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب خطے میں صورتحال کشیدہ ہے ۔ ایسے حالات میں علمائے کرام کی ذمہ دار یوں میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ علمائے کرام کو امت مسلمہ میں اتحاد اور ہم آہنگی کے فروغ کے لئے زیادہ متحرک کردار ادا کرنا ہو گا ۔ انہوں نے کہا حالیہ کشیدگی میں پاکستان نے انتہائی متوازن اور اصولی موقف اختیار کرتے ہوے خطے میں امن کے لئے تاریخی کردار ادا کیا ۔ دنیا نے پاکستان پر پاکستان پر تاریخی اعتماد کیا ۔ ایران اور امریکہ کے درمیان 1979 کے بعد پہلی بار براہ راست مذاکرات ہوے۔ یہ مذاکرات فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان کی بہترین سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہیں ۔ پاکستان کی دعوت پر دونوں ممالک اسلام آباد آئے ۔ جنگ بندی ہوئی اور مذاکرات کی میز پر بیٹھے ۔ پاکستان کی دعوت پر اسلام آباد آنے اور مذاکرات پر دونوں فریقین کے مشکور ہیں ۔ پاکستان نے عالم اسلام کے لئے یہ ادنی فریضہ سر انجام دیا ۔ یقین ہے فریقین کے درمیان امن بارت چیت جلد دیر پا امن کے قیام کا باعث بنے گی ۔ انہو ں نے مذاکرات میں فیلڈ ما رشل کے کردار کو بے مثال قرار دیتے ہوے کہاکہ فریقین کو مذاکراتی میز پر لانے کا سہرا انکے سر جاتا ہے ۔ فیلڈ مارشل کی کاوشیں ابھی بھی جاری ہیں یقین ہے یہ کاوشیں خطے میں پائیدار امن کا باعث بنیں گی ۔ وزیراعظم نے مذاکرات سعودی ولی عہد کے کردار کو بھی سرہاتے ہوے کہا پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بردارانہ تعلقات کی نئی مثال رقم ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ حرمین شریفین کے دفاع کی تجدید ہے ۔ حرمین شریفین کا دفاع اپنی جان سے بھی عزیز ہے ۔ انہوں نے مذاکرات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار دوست ممالک چین اور ترکیہ کے بہترین کردار کی بھی ستائش کی ۔ انہوں نے کہا پاکستان امن کے لئے اپنا کردارا دا کر رہا ہے ۔ امن کے قیام سے خطے میں بیروزگاری کا خاتمہ ہو گا اور خوشحالی آئے گی ۔ انہوں نے کہا پشاور سے خیبر تک پوری قوم متحد ہے۔ امت کو تقسیم کرنے اور دہشتگردی کو ہوا دینے والے عناصر مسلمان کہلانے کے حقدار نہیں۔ انہوں نے کہا فلسطین اور کشمیرپر پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے ۔ دریں اثناء شہباز شریف نے کہا ہے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کو گزرنے میں معاونت کرنے کے امریکی منصوبے پروجیکٹ فریڈم کو عارضی طور پر روکنے کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جراتمندانہ اقدام پر ان کا شکر گزار ہوں۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے لکھا کہ صدر ٹرمپ نے جرات مندانہ قیادت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پروجیکٹ فریڈم روکنے کا بروقت اعلان کیا جس پر ان کا شکر گزار ہوں۔انہوں نے لکھا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان اور دیگر برادر ممالک، بالخصوص مملکتِ سعودی عرب اور ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی درخواست پر مثبت ردعمل، اس نازک دور میں خطے میں امن، استحکام اور مفاہمت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔