صوبیہ عباس
جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہاتھی والوں کو ابابیلوں کے ذریعے پسپا کر دیا تھا اسی طرح انکل سام اور اسکے چہیتے صیہونیوں کو اس خطے میں انہیں دھول چاٹنے پر مجبور کر دیا ان ایرانیوں نے ۔اب حالات یہ ہیں کہ صدر ٹرمپ کی ایران کے تیل کے ذخائر تباہ کر دینے کی دھمکی پر ایران نے اس سے بڑی دھمکی دے ڈالی جس سے امریکہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا نہ صرف دھمکی بلکہ تاک تاک کر میزائل حملے کیے ،ابراہم لنکن نامی بیڑے کو بھگا دیا بلکہ اس سے بڑے جیرالڈ کو بھی خوار کردیا۔ اس کے محرکات کچھ بھی ہوں مگر جنگ کی سب سے بڑی ڈیولپمنٹ ھے کہ امریکا نے پانچ روزہ جنگ بندی کا اعلان کر دیا اور اس سے بڑی آج کی خبر یہ ھے کہ پاکستان ترکی اور مصر اب ایران امریکہ جنگ بندی کے لیے ثالثی کر رہے ہیں۔ جلد ہی اسکے بارے میں اچھی خبر ملے گی اس کے لیے جو میٹنگ ہو گی اس میں صدر ٹرمپ کے خاص ساتھی سٹیو وٹکوف ، جیرڈ کشنر اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی ہوں گے۔ اگرچہ ایران نے اس سے انکار کر دیا ھے اور اس حوالے سے کچھ مبہم شرائط بھی رکھ رہا ھے جبکہ ایران کو بھی اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ھے کیونکہ جنگ کسی مسلے کا حل نہیں اور کم تو ٹرمپ بھی نہیں، بندہ ھے زرا وکھری ٹائپ کا۔ لہذا یہ کہنا ابھی قبل از وقت ھے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا لیکن پاکستان کے لیے خوش آئند ہے کہ اب دنیا میں پاکستان کا ایک نہایت اہم اور مثبت کردار ھے جو موجودہ رجیم کی خارجہ پالیسی اور بہتر سفارت کاری کی وجہ سے ممکن ہوا۔وہ جو کہتے تھے کہ ملک ڈیفالٹ کر جائے بلکہ انہوں نے اسکے لیے سوشل میڈیا پر کمپین کی ،کبھی آئی ایم ایف اور کبھی یو این کو خط لکھے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی وائلشن اور دہشت گردی کرائی جا رہی ھے تو ان کے پروگرامز اور امداد بند کرو۔یہ ہی لوگ تھے جنہوں نے پاک امریکا جنگ میں ہندوستان کا بیانیہ دیا۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کہا فوج بلوچستان میں خود دہشت گردی کرا رہی ھے ایران امریکا جنگ میں ان کی خواہش تھی کہ خدانخوستہ پاکستان پر امریکی حملہ ہو تاکہ ہم کہہ سکیں کہ دیکھو یہ فارم 47 کی حکومت کی زیرو کریڈیبلٹی ھے۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آرمی چیف اور شعیہ علما کی ملاقات کے بعد طوفان اٹھا رکھا ھے کہ ہمیں دھمکی دی گئی ھے کہ ملک سے چلے جائیں ہمیں مدعو کر کے ہماری توہین کی گئی ھے۔ او بھء چیف ڈیفنس سپہ سالار ھے کوء سیاست دان نہیں ھے کہ کسی کی خوشامد کرکے سیاسی مفادات حاصل کرے جیسا کہ عمران خان نے محمود اچکزئی کی نقلیں اتارتے اتارتے اسے اپوزیشن لیڈر بنا دیا۔ چیف آف ڈیفنس سپہ سالار ھے وہ انتشاریوں کو دو ٹوک حکم دے گا کہ بندے دے پتر بنو نیئں تے جتھے دل کردا اوتھے ٹر جاؤ۔چیف آف ڈیفنس نے کہا کہ شرارتی لوگ بہتر ہو گا کہ پاکستان چھوڑ دیں اس پر بہت سے لوگ ناراض ہو گیے کہ ہمیں ملک چھوڑنے کا کہا ھے۔اور پی ٹی آئی کا طریقہ یہ ہی ھے کہ وہ پاکستان کے علاؤہ ہر ملک دشمن کے ساتھ ھے۔ جن لوگوں کو لگتا ھے کہ پاکستان اس وقت ایران کے ساتھ نہیں کھڑا یا اسرائیل کو تسلیم کر لیا ھے وہ سارے ملک سے باہر کیوں بیٹھے ہیں ادھر آؤ ناں زرا خوشبو لگا کے اور اپنے بچے ادھر دیسی ماحول میں پالو۔ فوج میں بھیجو زرا تم کو بھی پتہ چلے کہ کتنے کا سیر ہوتا ھے