*اظہر اقبال مغل*
پنجاب میں ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن ایک خوش آئند اقدام ہے جس سے بازاروں اور سڑکوں پر پیدا ہونے والی رکاوٹیں ختم کی جا رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر اس مہم کے ذریعے فٹ پاتھ اور سڑکوں کو اصل حالت میں بحال کیا جا رہا ہے، جس سے پیدل چلنے والوں اور ٹریفک کی روانی میں بہتری آئی ہے۔ تاہم، اس مسئلے کا مکمل اور مستقل حل تلاش کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ تجاوزات کے خلاف کارروائی صرف وقتی نہ ہو بلکہ دیرپا اور موثر ثابت ہو۔ یہ حقیقت ہے کہ ناجائز تجاوزات راتوں رات نہیں لگیں بلکہ برسوں سے ان کا سلسلہ جاری تھا، جس میں متعلقہ محکموں کی لاپرواہی اور سابقہ حکومتوں کی عدم توجہی بھی شامل رہی۔ برسوں سے جن افراد کا ذریعہ معاش ان ٹھیلوں اور ریڑھیوں پر منحصر ہے، ان کے لیے یہ آپریشن کسی آزمائش سے کم نہیں۔ ان کے لیے متبادل روزگار کے بغیر اچانک اس ذریعہ معاش کا ختم ہونا ایک بڑا معاشی اور سماجی بحران پیدا کر سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ان افراد کے لیے کوئی مہلت یا متبادل بندوبست کرے تاکہ وہ کسی اور جگہ جا کر اپنا روزگار جاری رکھ سکیں۔ بصورتِ دیگر، یہ لوگ بے روزگاری کے باعث مزید مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں، جس کا اثر مجموعی طور پر سماج پر بھی پڑے گا۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جیسے ہی تجاوزات کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے، ریڑھی بان وقتی طور پر اپنی جگہ چھوڑ دیتے ہیں لیکن جیسے ہی متعلقہ اداروں کے اہلکار واپس جاتے ہیں، وہ دوبارہ وہیں آکر قابض ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک مستقل مسئلہ ہے، جسے وقتی کارروائی سے نہیں بلکہ ایک جامع حکمت عملی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ مزید برآں، جب یہ جگہ خالی ہوتی ہے تو رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیور وہاں قابض ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک جام رہتی ہے اور عوام کو سہولت کے بجائے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب سے گزارش ہے کہ اس مسئلے کے لیے کوئی پائیدار حل نکالا جائے۔ اس کے لیے حکومت درج ذیل اقدامات کر سکتی ہے: تجاوزات ہٹانے کے ساتھ ساتھ متاثرہ افراد کو کوئی متبادل کاروباری جگہ فراہم کی جائے، جہاں وہ قانون کے دائرے میں رہ کر اپنا روزگار جاری رکھ سکیں۔
مستقل بنیادوں پر نگرانی کے لیے موثر ٹیمیں تعینات کی جائیں تاکہ تجاوزات دوبارہ قائم نہ ہو سکیں۔ رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے مخصوص اسٹینڈ بنائے جائیں تاکہ سڑکوں پر غیر ضروری قبضہ ختم ہو سکے۔ عوام میں آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ وہ خود بھی تجاوزات قائم کرنے یا ان کی سرپرستی کرنے سے گریز کریں۔ قانون کا یکساں نفاذ یقینی بنایا جائے تاکہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کسی خاص طبقے تک محدود نہ رہے، بلکہ ہر قسم کے غیر قانونی قبضے کا خاتمہ ہو۔ اگر ان تجاویز پر عمل کیا جائے تو نہ صرف سڑکیں اور بازار صاف ستھرے ہوں گے بلکہ ان افراد کو بھی بے روزگاری سے بچایا جا سکے گا، جن کی روزی روٹی ان ریڑھیوں اور ٹھیلوں سے وابستہ ہے۔ یہ صرف حکومت کی نہیں، بلکہ معاشرے کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ تجاوزات کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ شہروں کو خوبصورت اور سہل بنایا جا سکے۔