بارشیں کم ہونے سے اوسط درجہ حرارت چڑھ گیا ،تر بیلا کے 11 یونٹ بند ، بجلی پیداوار میں 4128 میگا واٹ کمی

خشک سالی کا خدشہ بجلی بحران سر اٹھانے لگا
 سندھ میں معمول سے 62 ، پنجاب میں 38 فیصد کم بارشیں ہوئیں ،جنوبی علاقوں میں اوسط درجہ حرارت معمول سے 2 سے 3 ڈگری زیادہ ،ڈیم میں پانی کی سطح بدستور ڈیڈلیول 1402فٹ پر برقرار ، زراعت کا نقصان ہونے کا بھی امکان
لاہور ،اسلام آباد (خصوصی رپورٹ ) خشک سالی کا خدشہ ،بجلی بحران سر اٹھانے لگامحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں معمول سے کم بارشوں کی وجہ سے خشک سالی کا الرٹ جاری کردیا۔یکم ستمبر 2024 سے 21 مارچ 2025 تک معمول سے 40فیصد کم بارشیں ہوئیں جبکہ سندھ میں معمول سے 62 فیصد اور بلوچستان میں معمول سے 52 فیصد کم بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔محکمہ موسمیات نے بتایا کہ پنجاب میں معمول سے 38 فیصد، خیبرپختونخوا میں معمول سے 35 فیصد اور آزاد کشمیر میں معمول سے 29 فیصد کم بارشیں ہوئیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق حالیہ بارشوں سے وسطی اور بالائی علاقوں میں خشک سالی کی صورتحال بہترہوئی، سندھ، بلوچستان کے جنوبی حصوں اور پنجاب کے مشرقی و میدانی علاقوں میں خشک سالی برقرار ہے۔ محکمہ موسمیات نے کہا کہ تربیلا اور منگلا ڈیموں میں پانی کی شدید قلت ہے جبکہ رواں سال مارچ میں جنوبی علاقوں میں اوسط درجہ حرارت معمول سے 2 سے 3 ڈگری زیادہ ہے۔محکمہ موسمیات نے بتایا کہ کچھ جنوبی علاقوں میں مسلسل خشک دنوں کی تعداد 200 سے بھی تجاوزکرچکی ہے، خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں صورتحال مزید بگڑسکتی ہے۔تر بیلا بجلی گھر کے 11پیداواری یونٹ بند ،بجلی پیداوار میں 4128 میگا واٹ کمی ہو گئی ، تر بیلا بجلی گھر کی کل پیداوار 4888میگا واٹ ہے جو کم ہو کرصرف 760میگا واٹ رہ گئی ، تربیلا ڈیم کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق تربیلا جھیل میں پانی کی سطح میں بتدریج کمی کا سلسلہ جاری ہے، ڈیم میں پانی کی سطح بدستور ڈیڈلیول 1402فٹ پر برقرار ہے،تربیلاجھیل میں پانی کی آمد میں کمی کے باعث گنجائش 148فٹ تک کم ہو گئی ، تر بیلا جھیل میں پانی کی آمد15700 کیوسک ہے جبکہ ڈیم سے پانی کا اخراج آمد کے مطابق کیا جا رہا ہے، جبکہ تربیلاڈیم میں پانی کی کمی سے تربیلا بجلی گھر کے11پیداواری یونٹ بند پڑے ہیں، 6 یونٹ بجلی پید ا کر رہے ہیں جن سے760میگاواٹ بجلی پیداکی گئی، تر بیلا جھیل میں پانی ذخیرہ کر نے کی گنجائش 1550فٹ ہے، تر بیلا جھیل میں پانی کی سطح تیزی سے کم ہونے سے زراعت کا نقصان بلکہ بجلی کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے، جو آنے والے دنوں میں لوڈ شیڈنگ میں اضافے کا باعث بنے گی۔