قومی اسمبلی اجلاسوں میں بھاری وسائل خرچ ہوتے ہیں،کابینہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے وہ پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہے:خط کا متن
اسلام آبا د(آن لائن)قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس سے غیر حاضررہنے والے وفاقی وزراء اور پارلیمانی سیکرٹریوں کے خلاف ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفی شاہ نے وزیر اعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چودھری کو خطوط لکھ دیئے،غلام مصطفی شاہ نے وزیر اعظم اور وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور کے نام الگ الگ خط میں واضح کیا کہ قومی اسمبلی کے 20 مارچ کو ہونے والے اجلاس کے دوران وقفہ سوالات میں وفاقی وزراء اور پارلیمانی سیکرٹریز موجود نہیں تھے ،وزارت پاور اور وزارت مواصلات کے 19 سوالات تھے تاہم ایوان کو وزرا نے کوئی اہمیت نہ دی اور متعلقہ وزارتوں کے نمائندگان جواب دینے کے لئے ایوان میں موجود نہ تھے ،یہ پارلیمانی روایات کی بے توقیری اور فرائض سے چشم پوشی بھی ہے ،اس معاملے کے اوپر کابینہ اراکین نے اجتماعی ذمہ داری کے بنیادی اصول پر بھی عمل نہیں کیا ،وزرا کی عدم موجودگی سے واضح ہوتا ہے کہ انہیں عوامی مفاد کے ایشوز سے دلچسپی نہیں ،پارلیمانی احتساب کے مقصد کو بھی نیچا دکھایا گیا اور سوالات کے جواب دینے کے لئے کوئی متبادل انتظامات بھی نہیں تھے ،وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایوان کی کارروائی اور قانون سازی سے متعلق بزنس کو بہتر انداز میں چلانے میں اپنا کردار ادا کرے،یہ بات قابل افسوس ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاسوں پرقومی خزانے سے بھاری وسائل خرچ ہوتے ہیں لیکن حکومت کی غفلت کی وجہ سے ان اجلاسوں کا اصل مقصد حاصل نہیں ہوتا