مسلم لیگ ن کے 31 ، پیپلز پارٹی 14 ‘جموں و کشمیر عوامی دست و بازو کے ایک رکن نے حلف اٹھایا‘ن لیگ کے طارق فاروق سپیکر راجہ آصف ڈپٹی سپیکر کے امیدوار
آزاد کشمیر میں ن لیگ کی پیپلز پارٹی کو اہم عہدوں کی پیشکش،پی پی پی کا انکار ‘کشمیر بھارت کا حصہ نہیں، امریکی سفیر کا بیان مسترد، قرارداد منظور
مظفرآباد(آن لائن‘آئی این پی ) آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا سپیکر چودھری لطیف اکبر کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔اجلاس میں 46 نو منتخب ارکان آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی نے رکنیت کا حلف اٹھا لیا۔اسپیکر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر نے نو منتخب ارکان سے حلف لیا۔مسلم لیگ ن کے 31 ، پیپلز پارٹی کے 14 اورجموں و کشمیر عوامی دست و بازو کے ایک رکن ساجد اقبال نے حلف اٹھایا۔اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب آج متوقع ہے،مسلم لیگ ن کے چوہدری طارق فاروق اسپیکر راجہ آصف ڈپٹی اسپیکر کے امیدوار متوقع ہیں۔مسلم لیگ ن نے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی 8 مخصوص نشستوں میں چھ حاصل کر لی، مسلم لیگ ن کو خواتین کی تین، علما و مشائخ ، سمندر پار مقیم کشمیریوں اور ٹیکنو کریٹ کی ایک ایک اضافی نشست مل گئی، جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کو دو خواتین کی مزید نشتیں ملیں۔مسلم لیگ (ن) کی جانب سے خواتین کی مخصوص نشستوں کیلئے مریم زمان، مریم ادریس، سحرش قمر اور سمندر پار مقیم کشمیریوں کی مخصوص نشست عبد الرحمان آرائیں ، ٹیکنوکریٹ سید افتخار علی گیلانی جبکہ علما و مشائخ کی نشست پر مولانا مظہر سعید کامیاب ہوگئے۔ن لیگ کی امیدوار رفعت عابد اور پی پی پی کی زوبیہ خورشید کو پانچ، پانچ برابر ووٹ ملے، جس کے بعد ٹاس پر پی پی پی کی امیدوار ذوبیہ خورشید کامیاب ہوئی، اس سے قبل فرزانہ یعقوب بھی پی پی پی کی طرف سے مخصوص نشست پر کامیاب ہوگئیں۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کو حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے اور انہیں صدرِ آزاد کشمیر اور ڈپٹی اسپیکر سمیت اہم عہدے دینے کی پیشکش کی ہے۔تاہم، اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے آزاد کشمیر سے متعلق مسلم لیگ ن کی یہ پیشکش مسترد کر دی ہے اور اسمبلی میں بطور اپوزیشن بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے‘دریں اثناء قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں امریکی سفیر کی طرف سے کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینے کے بیان کی مذمت کی گئی، لطیف اکبر نے قرارداد پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔قرارداد میں کہا گیا کہ ریاست جموں و کشمیر بھارت کا حصہ نہیں، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق یہ ایک متنازعہ ریاست ہے، ریاست کا فیصلہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا باقی ہے۔قرارداد میں کہا گیا کہ امریکی سفیر کے بیان کی کوئی حیثیت نہیں، اسے مسترد کرتے ہیں۔