جنوبی غزہ: حماس کے حملے میں اسرائیلی کمانڈر سمیت 7 فوجی ہلاک

جنوبی غزہ: حماس کے حملے میں اسرائیلی کمانڈر سمیت 7 فوجی ہلاک

ویب ڈیسک: فلسطینی مزاحمت کاروں نے جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو بھاری نقصان پہنچایا ہے، جس میں پلاٹون کمانڈر سمیت 7 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق جھڑپ جنوبی غزہ کی پٹی میں منگل کے روز اس وقت ہوئی جب اسرائیلی فوجی ایک مشن کے دوران علاقے میں موجود تھے۔ اس دوران ان کی گاڑی کے نیچے نصب دھماکا خیز مواد پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور فوجی موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ایک علیحدہ واقعے میں ایک اور اسرائیلی فوجی شدید زخمی ہوا، جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔

اسرائیلی فوج کا بھاری جانی نقصان:
اسرائیلی میڈیا اور فوجی حکام کے مطابق جون کے آغاز سے اب تک غزہ میں 19 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم ایک سینئر فوجی افسر نے ترک خبر رساں ادارے انادولو کو بتایا کہ:“غزہ میں جاری جنگ کے آغاز (اکتوبر 2023) سے لے کر اب تک 10 ہزار سے زائد اسرائیلی فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ ہزاروں اہلکار بار بار ذہنی دباؤ اور پی ٹی ایس ڈی کا شکار ہو رہے ہیں۔”سرکاری طور پر اب تک 861 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت اور 5,921 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، تاہم ان اعداد و شمار میں بھی کمی بتائی جا رہی ہے۔

دوسری جانب فلسطینیوں کی نسل کشی جاری:
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی بمباری اور فائرنگ سے کم از کم 86 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ دل دہلا دینے والا واقعہ رفح میں پیش آیا جہاں خوراک کے متلاشی 27 فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج نے گولی مار کر شہید کر دیا۔اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ادارے بارہا اسرائیلی کارروائیوں کو جنگی جرائم اور نسل کشی قرار دے چکے ہیں، تاہم اسرائیلی حکومت اور فوج نے غزہ پر بمباری اور آپریشن کا سلسلہ بدستور جاری رکھا ہوا ہے۔

پس منظر:
7 اکتوبر 2023 کے بعد شروع ہونے والی غزہ جنگ میں اب تک 35 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں، جب کہ لاکھوں افراد بے گھر، زخمی اور بنیادی انسانی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں۔