واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بار پھر مواخذے کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، تاہم ایوانِ نمائندگان میں مواخذے کی کوشش بری طرح ناکام ہو گئی۔
ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں کانگریس کی منظوری کے بغیر امریکا کو شامل کرنے کے معاملے پر ڈیموکریٹ رکن کانگریس آل گرین کی جانب سے پیش کی گئی مواخذے کی قرارداد کو بہت بڑی اکثریت سے مسترد کر دیا گیا۔
مواخذے کی تحریک کا پس منظر
رکن کانگریس آل گرین نے ایوان میں تحریک پیش کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کی حکمت عملی کے سلسلے میں صدارتی اختیارات کا غلط استعمال کیا، اور کانگریس کی منظوری کے بغیر امریکا کو ایک ممکنہ جنگ کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی۔گرین نے مؤقف اختیار کیا کہ:"یہ اقدام خوشی سے نہیں بلکہ آئین کی حرمت کے لیے کیا جا رہا ہے۔ کسی ایک شخص کو 30 کروڑ امریکیوں پر مکمل اختیار حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کانگریس کی منظوری کے بغیر جنگ لڑی جائے گی تو آئین بے معنی ہو جائے گا۔"
ایوان کی رائے: ڈیموکریٹس بھی تقسیم
مواخذے کی قرارداد کو 79 کے مقابلے میں 344 ووٹوں سے مسترد کر دیا گیا۔حیران کن طور پر 128 ڈیموکریٹس نے بھی ری پبلکنز کے ساتھ مل کر قرارداد کی مخالفت کی۔یوں پارٹی لائنز سے ہٹ کر صدر ٹرمپ کو ایک بڑی عددی فتح حاصل ہوئی۔
ٹرمپ کا مخالفین پر لفظی وار
صدر ٹرمپ نے اس موقع پر اپنے مخصوص انداز میں سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بنایا:انہوں نے رکن کانگریس کارٹز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ:"کارٹز کو واپس کوئنز جانا چاہیے اور وہاں کی جرائم سے بھری سڑکوں کی صفائی کرنی چاہیے۔"کارٹز نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا:"میں برونکس کی وہ لڑکی ہوں جو کوئنز کے لڑکوں کو ناشتہ میں کھا جاتی ہے۔"ٹرمپ نے ایک اور رکن جیسمین کروکیٹ کی ذہانت پر بھی حملہ کیا، اور کہا کہ ان کی سطح "انتہائی پست" ہے۔انہوں نے الہان عمر پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ:"امریکا میں صرف کیڑے نکالتی ہیں، جبکہ وہ جس ملک (صومالیہ) سے آئی ہیں، وہ دنیا کے غریب ترین اور مجرمانہ ممالک میں سے ایک ہے۔"
پہلے بھی ہو چکی ہیں مواخذے کی کوششیں
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں بھی انہیں دو بار مواخذے کی کوششوں کا سامنا کرنا پڑا تھا:2019 میں، جب انہوں نے مبینہ طور پر یوکرین کو دی جانے والی امداد روک کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔بعد ازاں 2021 میں کیپٹل ہل حملے کے بعد بھی مواخذے کی تحریک پیش کی گئی، جو سینیٹ میں ناکام ہو گئی تھی۔
تجزیہ: اختلاف رائے کی سیاسی گونج
آل گرین جیسے قانون سازوں کے مطابق ٹرمپ کے اقدامات امریکا کو مطلق العنانیت (authoritarianism) کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ تاہم ایوان میں ان کے خلاف اقدام کی حمایت حاصل نہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پارٹی کے اندر بھی ٹرمپ کے خلاف قانونی کارروائی پر اتفاق رائے موجود نہیں۔