نیتن یاہو کا ٹرمپ پر ایران کے خلاف مشترکہ حملے کے لیے دباؤ، امریکی انتظامیہ میں اختلافات

نیتن یاہو کا ٹرمپ پر ایران کے خلاف مشترکہ حملے کے لیے دباؤ، امریکی انتظامیہ میں اختلافات

تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دے رہے ہیں کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کریں، جبکہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ممکنہ حملوں کے حوالے سے سفارتی اور عسکری سطح پر مشاورت جاری ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ’’ایکسیوس‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے کے معاملے پر ٹرمپ انتظامیہ میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ انتظامیہ کے بعض عہدیدار ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور سفارتی ذرائع سے معاملات حل کرنے کے حامی ہیں، جبکہ دیگر حکام فوجی دباؤ بڑھانے اور مزید حملوں کی حمایت کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ کے درمیان ایران کے خلاف ممکنہ مشترکہ فوجی آپریشن کے معاملے پر رابطے ہوئے ہیں۔ مجوزہ کارروائی میں ایران کے فوجی اور جوہری اہداف کو نشانہ بنانے کے امکانات زیرِ غور آئے ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد ممکنہ کارروائی کا وقت انتخابات کے بعد سے جوڑا جا رہا ہے۔ایکسیوس کے مطابق امریکی اور اسرائیلی فوجی حکام ممکنہ کارروائی کے لیے تیاریوں کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سے حملے کی حتمی منظوری نہیں دی گئی۔ دوسری جانب قطر کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ فوجی تصادم سے بچا جا سکے۔

دوسری جانب اسرائیلی ٹی وی چینل 15 کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایران پر ممکنہ حملے کے لیے تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوجی حکام کو خدشہ ہے کہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ شروع ہونے کی صورت میں لبنان کی تنظیم حزب اللہ بھی اسرائیل کے خلاف محاذ کھول سکتی ہے۔اسی خدشے کے پیش نظر اسرائیلی فوج شمالی محاذ پر ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ اسرائیلی حکام کے لیے بیک وقت ایران اور لبنان کی جانب سے ممکنہ حملوں کا مقابلہ کرنا ایک اہم دفاعی چیلنج ہوسکتا ہے۔ادھر حزب اللہ کی جانب سے بھی ممکنہ نئی جنگ کے تناظر میں تیاریوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق لبنانی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے گزشتہ تین ماہ کے دوران ممکنہ جنگ کے لیے اپنی عسکری صلاحیتوں کو دوبارہ منظم کرنے پر توجہ دی ہے۔