ٹرمپ انتظامیہ میں ایران و لبنان پالیسی پر اختلافات کی بحث، وائٹ ہاؤس نے تردید کر دی

ٹرمپ انتظامیہ میں ایران و لبنان پالیسی پر اختلافات کی بحث، وائٹ ہاؤس نے تردید کر دی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دو اہم رہنماؤں کے بیانات کے بعد ایران اور لبنان سے متعلق امریکی خارجہ پالیسی پر ممکنہ اختلافات کی بحث نے زور پکڑ لیا، تاہم وائٹ ہاؤس نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے انتظامیہ میں مکمل اتحاد کا دعویٰ کیا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں اور مفاہمتی عمل کے حوالے سے نسبتاً نرم مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں "اچھی پیش رفت" ہو رہی ہے اور فریقین کے درمیان ممکنہ حتمی معاہدے کے لیے مضبوط بنیاد موجود ہے۔جے ڈی وینس نے اسرائیل کی مسلسل فوجی کارروائیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی چھوٹا ملک ہر مسئلے کا حل صرف فوجی طاقت کے ذریعے نہیں نکال سکتا۔ انہوں نے لبنان میں جاری بمباری کے انسانی اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف دہرایا۔ انہوں نے خلیجی ممالک کو یقین دہانی کرائی کہ امریکا ان کے سلامتی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور ایران پر عائد پابندیوں کے مؤقف میں کوئی نرمی نہیں آئے گی۔مارکو روبیو نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کہا کہ یہ عالمی آبی گزرگاہ ہے اور کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں ہو سکتی۔ لبنان سے متعلق انہوں نے اسرائیلی کارروائیوں کو حزب اللہ کے حملوں کا ردعمل قرار دیتے ہوئے ان کا دفاع بھی کیا۔

الجزیرہ کے مطابق ان بیانات نے امریکی خارجہ پالیسی کے اندر ممکنہ اختلافات سے متعلق قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جامع معاہدے کے لیے آئندہ 60 روز اہم سمجھے جا رہے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔تاہم وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ان تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پوری انتظامیہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی پر متحد ہے اور اختلافات کی خبریں بے بنیاد ہیں۔مارکو روبیو نے بھی واضح کیا کہ تمام اہم فیصلے صدر ٹرمپ کی قیادت میں کیے جا رہے ہیں اور انتظامیہ کی خارجہ پالیسی ایک ہی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق اگرچہ جے ڈی وینس اور مارکو روبیو کے لہجے اور ترجیحات میں فرق دکھائی دیتا ہے، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ اختلافِ رائے پالیسی میں عملی تبدیلی کی صورت اختیار کرتا ہے یا صرف مختلف سفارتی انداز کی عکاسی ہے۔