موسمی شدت میں اضافہ اور خطے کی معیشتوں، ماحولیاتی نظام اور معاشروں پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں:عالمی ادارے کی رپورٹ
اسلام آباد(آئی این پی ) ہیٹ ویوز، شدید گرمی، طوفانی بارشیں، خشک سالی، تیزی سے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز، سطح سمندر کے درجہ حرارت میں تیزی سے اضافے نے ایشیائی باشندوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) نے دی اسٹیٹ آف دی کلائمیٹ ان ایشیا 2024 کے عنوان سے جاری رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایشیا عالمی اوسط سے تقریبا دوگنا تیزی سے گرم ہو رہا ہے، جس کے باعث موسمی شدت میں اضافہ اور خطے کی معیشتوں، ماحولیاتی نظام اور معاشروں پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ( سال 2024 دستیاب ریکارڈ کے مطابق) تاریخ کا سب سے گرم یا دوسرا سب سے گرم ترین سال رہا جس میں شدید اور طویل گرمی کی لہریں رپورٹ ہوئیں 1991 سے 2024 کے درمیان گرمی کا شدت 1961 سے 1990 کے مقابلے میں تقریبا دوگنا زائد ریکارڈ ہوئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث خطے میں بحیرہ لاپٹیف، دریائے لینا کے نچلے اور درمیانی حصے کے اطراف (روسی فیڈریشن) یابلونوئی پہاڑوں کی طرف، ساتھ ہی مشرقی سایان (روسی فیڈریشن) اور خانگائی پہاڑوں (منگولیا) کے اردگرد بارشوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہندوکش (افغانستان) اور مغربی ہمالیہ (پاکستان) کے کچھ حصے معمول سے زیادہ خشک رہے۔سال 2024 میں سمندر کا ایک ریکارڈ رقبہ گرمی کی لہروں کی زد میں رہا، سطح سمندر کا درجہ حرارت ریکارڈ گرم محسوس کیا گیا اور ایشیا میں سطح سمندر دہائی کی گرم ہونے کی شرح کے ساتھ عالمی اوسط سے تقریبا دوگنا زائد رہا بحر الکاہل اور بحیرہ ہند کے کنارے سمندر کی سطح میں اضافہ عالمی اوسط سے کہیں زیادہ ہوا ہے جس کہ وجہ سے ساحلی پٹیوں کے اطراف رہائش پذیر آبادیوں کے لیے خطرات میں اضافہ ہوگیا ہے