امجد علی
عدل، انصاف اور مساوات کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد اور ریاستی ڈھانچے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ آئین پاکستان ہر شہری کو مساوی حقوق اور قانون کے سامنے برابری کی ضمانت دیتا ہے۔ اسی آئینی تصور کے تحت ریاست نے تعلیم، اہلیت اور ذمہ داری کی بنیاد پر نیشنل پے اسکیلز (NPS) مرتب کیے تاکہ ایک ہی گریڈ، یکساں قابلیت اور مساوی نوعیت کی ذمہ داریاں ادا کرنے والے وفاقی ملازمین کو یکساں بنیادی تنخواہ اور مساوی مالی حقوق حاصل ہوں۔
قیام پاکستان سے لے کر کئی دہائیوں تک یہی اصول نافذ العمل رہا کہ کسی مخصوص علاقے، خطرناک ڈیوٹی یا منصوبہ جاتی (Project-Based) الاؤنس کے علاوہ، ایک ہی گریڈ کے ملازمین کی بنیادی مالی حیثیت میں کوئی نمایاں فرق نہیں ہوتا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے گزشتہ دس سے پندرہ برسوں کے دوران اس بنیادی اصول سے مسلسل انحراف کیا گیا۔ نتیجتاً چند مخصوص محکموں اور اداروں کو غیر معمولی خصوصی الاؤنسز اور مراعات سے بار بار نوازا جاتا رہا، جبکہ وفاقی ملازمین کی ایک بہت بڑی اکثریت اہم قومی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے باوجود ان سہولتوں سے یکسر محروم رہی۔ اس بڑھتی ہوئی معاشی تفریق نے نہ صرف مساوات کے ریاستی تصور کو مجروح کیا بلکہ لاکھوں وفاقی ملازمین میں احساس محرومی اور ادارہ جاتی ناانصافی کو بھی جنم دیا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا سیاسی قیادت کے فیصلوں سے واقعی ملک و قوم سے اخلاص اور بصیرت جھلکتی ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر ایسے تمام معاہدوں، بنیادی اور پالیسی فیصلوں کا غیرجانبدارانہ احتساب کیوں نہیں ہوتا جن سے قومی مفاد، قومی خزانے یا عوامی حقوق متاثر ہوئے ہوں؟ قانون کی حکمرانی کا تقاضا یہی ہے کہ ہر فیصلہ آئین اور انصاف کے ترازو پر تولا جائے، نہ کہ طاقت اور مفاد کے پلڑے میں۔
حکومت ایک طرف ڈسپیرٹی ریڈکشن الاؤنس کے نام پر تنخواہوں کے فرق کو کم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے، مگر دوسری طرف مخصوص محکموں اور اداروں کو ایسے اضافی الاؤنسز اور مراعات دے دیتی ہے کہ وہی فرق پہلے سے کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر مقصد عدم مساوات ختم کرنا تھا تو پھر اس خلیج کو مزید وسیع کیوں کیا گیا؟ جب ڈسپیرٹی ریڈکشن الاؤنس جاری کیا گیا اس وقت منسلک ہدایات کیا تھیں۔
اب دیکھتے ہیں کہ عملی طور پر اس حوالے سے زمینی حقائق کیا ہیں۔ حکومت نے پہلی مرتبہ تیس فیصد ڈسپیرٹی ریڈکشن الاؤنس کا اعلان کرتے ہوئے واضح شرط عائد کی کہ وہ ملازمین جنہیں ماضی میں بنیادی تنخواہ پر 100 فیصد یا اس سے زیادہ خصوصی اضافہ یا مساوی مالی مراعات دی جا چکی ہیں، وہ اس الاؤنس کے اہل نہیں ہوں گے۔ اس فیصلے کو یہ کہہ کر پیش کیا گیا کہ اس کا مقصد تنخواہوں میں موجود عدم مساوات ڈسپیرٹی کو کم کرنا ہے۔
لیکن حیرت انگیز طور پر، اسی مالی سال میں ایک علیحدہ حکم نامے کے ذریعے انہی مخصوص محکموں یا ملازمین کو، جو پہلے ہی سو فیصد یا اس سے زائد اضافی مراعات سے مستفید ہو رہے تھے، مختلف عنوانات کے تحت 50 فیصد، 100 فیصد بلکہ بعض صورتوں میں 150 فیصد تک مزید خصوصی الاؤنسز دے دیے گئے۔
سوال یہ ہے کہ اگر مقصد ڈسپیرٹی ریڈکشن تھا تو پھر پہلے سے سخاوتوں کی آبشار میں نہال انہی طبقات کو مزید مراعات دے کر اس تفاوت کو پہلے سے کہیں زیادہ وسیع کیوں کر دیا گیا؟ کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک زاویہ سے فرق کم کرنے کا اعلان کیا گیا اور دوسرے ہاتھ سے اسے کئی گنا بڑھا دیا گیا؟ مطلب آپ نے اپنے پہلے آفاقی وڑن پر مبنی فیصلے کی دوسرے فیصلے کے ہاتھوں درگت ہی بنا دی۔
یہ کیسا نظام ہے کہ ایک ہی بنیادی تنخواہ سکیل، ایک جیسی تعلیمی قابلیت، ایک جیسے سروس رولز اور ایک ہی وفاقی حکومت کے تحت کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں میں صرف محکمہ بدلنے سے تین، چار بلکہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ گنا "ملٹی ٹائم" فرق پیدا ہو جاتا ہے؟ کیا یہی مساوی کام مساوی اجرت کا قانون ہے، کیا یہ ائین پاکستان میں درج کر شہری کے مساوی حقوق کا قانون ہے، یا پھر ریاست نے خود اپنے ملازمین کو شودر اور براہمن درجوں میں تقسیم کر دیا ہے؟
یہ فیصلے باقی وفاقی ملازمین کو ایک واضح پیغام دیتے ہیں کہ اس ملک میں کارکردگی، قابلیت اور قواعد سے زیادہ طاقت، اثر و رسوخ اور ادارہ جاتی حیثیت کی قیمت ہے۔ پسند نا پسند کی پر کھڑے وفاداری کے نظام کی اہمیت زیادہ ہے۔ یہی احساس محرومی ریاستی اداروں پر اعتماد کو کمزور کرتا ہے اور محنت، دیانت اور وفاداری کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔
ایسے فیصلے اور تفرق ایک واضع اعلامیہ اور تاثر دیتے ہیں کہ مراعات یافتہ ادارے یا کچھ پسندیدہ گروہ ملازمین ہی پوری سلطنت کے سرکاری ڈھانچے کو رواں دواں رکھے ہوئے ہیں۔ اگر واقعی چند مخصوص محکمے ہی ریاست کا سارا بوجھ اٹھا رہے ہیں اور باقی وفاقی ملازمین غیر ضروری ہیں، تو پھر دوہرا معیار اپنانے کے بجائے صاف اعلان کر دیا جائے۔ باقی بظاہر اداروں پر بوجھ ملازمین کو باعزت "گولڈن ہینڈ شیک" دے کر گھر بھیج دیا جائے اور ریاست صرف انہی پسندیدہ اداروں کے ذریعے چلائی جائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ریاست کا پورا انتظامی
ڈھانچہ انہی لاکھوں گمنام ملازمین کے کندھوں پر کھڑا ہے جو اپنی پوری زندگی انتہائی دہانت سے قومی خدمت کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ اور ہر ارادہ اپنی جگہ اہم فرائض ادا کر رہا ہے
یہ محض تنخواہوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ آئینی مساوات، ادارہ جاتی انصاف اور ریاست پر اعتماد کا مسئلہ ہے۔ جب ریاست خود اپنے ملازمین کے ساتھ امتیازی سلوک کرے گی تو احساس محرومی، ناانصافی اور بد اعتمادی کی جڑیں مزید گہری ہوں گی۔
اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی کی طرح یہ تفریق صرف تنخواہ میں ہی نہیں ہے۔ پنشن کے حوالے سے کیے گئے بعض فیصلے بھی اسی نوعیت کے تضادات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک طرف برسوں تک ملک اور اداروں کی خدمت کرنے والے معمر پنشنرز کو قومی خزانے پر بوجھ قرار دے کر ان کی پنشن میں معمولی اضافے پر اکتفا کیا جاتا ہے، یا بعض اوقات انہیں حقیقی مہنگائی کے تناسب سے، اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف، یکسر محروم رکھا جاتا ہے۔ دوسری طرف "بیوہ بیٹی" کے عنوان سے ایسے معاملات بھی سامنے آتے ہیں جہاں پچاسی، نوے بلکہ پچانوے برس کی شادی شدہ اور مالی طور پر مستحکم عورتوں کو "بیوہ بیٹی" کے نام پر والد کی پنشن جاری کی جاتی ہے۔ ان کی تعداد بھی کافی ہے حد تو یہ کہ سو سال سے زائد عمر کی بیوہ بیٹی عورتوں کے کیس بھی دیکھنے میں ائے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس قانون کا مقصد یہی تھا؟ جب یہ سہولت متعارف کرائی گئی تو اس کا بنیادی مقصد ان بیوہ بیٹیوں کو مالی سہارا فراہم کرنا تھا جو کم عمری میں شوہر کے انتقال کے بعد بے آسرا ہو کر والد کی دہلیز پر آ بیٹھیں اور والد کی پنشن ہی ان کے نان نفقے کا واحد ذریعہء تھا۔ یہ ایک فلاحی سہولت تھی، نہ کہ دو روپے کے کاغذ پر لکھی دو لفظی تحریری سرٹیفیکیٹ (میں بیوہ بیٹی ہوں، میری گذر اوقات کا واحد ذریعہ والد کی پنشن ہے) کی بنیاد پر ہر عمر اور ہر مالی حیثیت پر بلا امتیاز لاگو ہونے والا مستقل استحقاق مقصد تھا۔
بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ اس قانون کے اصل مقصد سے ہٹ کر اس کی ایسی تشریح اور عمل درآمد دیکھنے میں آئے جس سے اس کی روح مکمل مسخ کر دی گئی ہے۔ جب ایک پچاسی یا پچانوے سالہ خاتون کو، جس کے اپنے بالغ، شادی شدہ اور مالی طور پر مستحکم بچے موجود ہوں، وسائل کی ریل پیل ہو، دادی پڑدادی کا بچوں سے بھرا پڑا آنگن ہو، اسے "بیوہ بیٹی" کی حیثیت سے پنشن دی جائے تو یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کیا یہ واقعی قانون کی منشا ہے یا محض ایک قانونی اصطلاح کا ایسا بیجا، بے دریغ استعمال جو انصاف اور مساوات کے اصولوں سے مطابقت رکھنے کی بجائے اس کا مذاق بن کے رہ گیا ہو؟ ایسے فیصلوں پر کابینہ یا فنانس ڈیویڑن کو نظر ثانی کی سخت ضرورت ہے۔
یہی تضاد دوسرے شعبوں میں بھی نمایاں ہے۔ ایک طرف دو سو ایک یونٹ بجلی استعمال کرنے والا غریب مزدور یا متوسط شہری ناقابل برداشت بلوں کے بوجھ تلے سسک رہا ہوتا ہے بلاتا ہے اور اسے یہ کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے کہ خزانہ خالی ہے، وسائل محدود ہیں، ملک مشکل دور سے گذر رہا ہے اور حکومت ہر روز نیا ریٹ نیا طریقہ متعارف کروانے علاوہ کچھ نہیں کر سکتی۔ دوسری طرف بعض ایسی اضافی، بیجا مالی سہولیات پر قومی خزانے کے دروازے چوپٹ کھلے دکھائی دیتے ہیں جن کا اصل مقصد محدود اور مخصوص حالات میں ضرورت مند افراد کی مدد تھا۔ فیملی اسسٹینسں پیکج میں بھی صورت حال مختلف نہیں۔ ملازم جب زندہ ہوتا ہے تو مقروض، کچن اخراجات، گھر کا کرایہ بچوں کے تعلیمی اخراجات بچوں کی شادیوں کے لیے مالی معاونت کے لیے دوسروں کی طرف دیکھتا ہے محکمہ یا ملک کبھی مدد کو آگے نہیں اتا۔ جیسا ہی وہ مرتا ہے اس کی بیوی فیملی کے مسائل کے تدارک کے لیے حکومتی بڑے بڑے پیکج سامنے آتے ہیں جو اسقدر کافی ہیں کہ ہر مشکل کا شافی حل نکل آتا ہے۔ یہاں بہت اہم سوال پیدا ہوتا ہے ایک سرکاری ملازم کی فیملی کے لیے بہترین مددگار ثابت ہونے والی سٹیٹ اس ملازم (جس کی وجہ سے بیوہ کو سب ملا) کو مشکلات میں کیوں تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اسے پلاٹ یا اس کی قیمت کیوں ادا نہیں کی جاتی کہ اپنا گھر بنا سکے۔ بچی کی شادی کی آٹھ لاکھ گرانٹ اسے کیوں نہیں ملتی کہ وہ باپ ہونے کے فرائض خوش اسلوبی سے ادا کر سکے۔ جبکہ کہ ملازم بذات خود حکومت کی ذمہداری میں آتا ہے۔ سوال یہ واحد کیس نہیں اس طرح کی ہزاروں مثالیں ہیں جنہیں فوری اصلاح کی ضرورت ہے
اصل سوال کسی فرد کی ذات یا اس کا مفاد نہیں بلکہ قانون کی روح، انصاف کے تقاضوں اور قومی وسائل کے منصفانہ استعمال کا ہے۔ اگر ایک طرف مالی مشکلات کا جواز دے کر لاکھوں حقیقی مستحقین کو محدود ریلیف دیا جائے اور دوسری طرف ایسے معاملات میں عمر، مالی حیثیت اور قانون کے بنیادی مقصد کو سرے سے ہی نظر انداز کر دیا جائے تو یہ تضاد یقیناً اصلاح اور سنجیدہ نظرثانی کا متقاضی ہے۔
مقتدر اداروں میں اگر کوئی سن پا رہا ہے تو پارلیمان اور اعلیٰ عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس غیر متوازن نظام کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور ایسے اصول وضع کریں جن کے تحت ایک ہی گریڈ، ایک جیسی ذمہ داری اور یکساں شرائط ملازمت رکھنے والے وفاقی ملازمین کے درمیان غیر معمولی تفاوت کا فوری خاتمہ ہو۔ تاکہ ریاست پاکستان کا تصور عدل و انصاف پر مبنی اسلامی ریاست محسوس بھی ہو۔ نشان دہی سے اتنا ہی مقصود ہے کہ فیصلوں میں دلیل اور باقی قوانین سے مطابقت کی شدید ضرورت ہے جبکہ موجودہ فیصلوں میں تضاد کی کیفیت اس جملے کے مصداق ہے، "اس دل کے ٹکرے ہزار ہوئے کوئی جہاں گرا کوئی وہاں گرا" کوئی کس طرف ، کوئی کس طرف جا رہا ہے
ریاستیں صرف سڑکوں، عمارتوں یا منصوبوں سے مضبوط نہیں ہوتیں، وہ انصاف، مساوات اور اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر آج بھی اس مصنوعی تفریق کو ختم نہ کیا گیا تو وقتی مفادات تو شاید محفوظ رہ جائیں، مگر آنے والے برسوں میں ریاست بتدریج اپنے مخلص، باصلاحیت اور باوقار انسانی سرمایہ سے محروم ہوتی چلی جائے گی۔ یہی وہ قیمت ہے جو کوئی بھی ذمہ دار ریاست ادا کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔