سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
تاریخ کی بساط پربعض اوقات ایسے واقعات رونماہوتے ہیں جوبادی النظرمیں محض سفارتی معاہدے،سرکاری دستاویزات یا عسکری تعاون کے رسمی اعلانات معلوم ہوتے ہیں،مگر وقت کادریچہ ذراوسیع کیاجائے توانہی سطروں کیعقب میں آنے والے زمانوں کی پرچھائیاں دکھائی دینے لگتی ہیں۔پاکستان اورکویت کے مابین تازہ دفاعی تعاون اورپاکستان، سعودی عرب اورترکی سے منسوب مکہ دفاعی معاہدے کاقریب قریب ایک ہی دورمیں سامنے آنابھی ایک ایسی ہی پیش رفت ہے جسے محض دویاتین ریاستوں کے باہمی تعلقات کی محدودعینک سے دیکھناشاید کافی نہ ہو۔یہ واقعات ایک ایسے عہدمیں وقوع پذیرہورہے ہیں جب خلیج کی سیاست اپنے پرانے سانچوں سے باہرنکلنے،اپنے دفاعی امکانات کومتنوع بنانے اوربدلتی ہوئی عالمی طاقتوں کے درمیان اپنے لیے ایک زیادہ محفوظ اوربااختیارمقام تراشنے کی جستجومیں ہے۔
پاکستان اورکویت کے درمیان نئے دفاعی انتظامات اورپاکستان،سعودی عرب اورترکی کے مابین مکہ معاہدے کاقریب قریب ایک ہی زمانے میں سامنے آنااس امر کی علامت سمجھا جا سکتاہے کہ خلیجی سلامتی کے منظرنامے میں پاکستان کی اہمیت بتدریج بڑھ رہی ہے۔حالیہ علاقائی کشیدگی،جنگی تصادم اورمشرقِ وسطی میں پیداہونے والی بے یقینی نے ان ریاستوں کو ایسے شراکت داروں کی طرف متوجہ کیاہے جومحض سیاسی تائیدہی نہیں بلکہ عملی عسکری مہارت،تربیت اوردفاعی تجربہ بھی فراہم کرسکیں۔دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان نے متعدد خلیجی ممالک کاایسااعتمادحاصل کیاہے جس کی بنیاداس کی فوجی صلاحیت،دفاعی تجربے اورتربیتی استعدادپرقائم ہے۔یوں محسوس ہوتاہے کہ خلیج کے ساحلوں پراب سلامتی کا چراغ صرف ایک پرانی طاقت کے تیل سے روشن رکھنے کی بجائے متعددہاتھوں سے ایندھن حاصل کرنے کی تدبیرکی جارہی ہے۔
اس پورے منظرنامے میں بنگلہ دیش سے آنے والاردِعمل بھی کم اہم نہیں۔بنگلہ دیشی وزیرِخارجہ سے منسوب بیان کے مطابق اس سہ فریقی انتظام کومثبت نگاہ سے دیکھاجارہاہے، اور اگرموجودہ رکن ممالک بنگلہ دیش کی شمولیت کی خواہش ظاہرکریں توڈھاکااس امکان کوسنجیدگی اورمثبت رویے کے ساتھ دیکھ سکتاہے۔یہ اشارہ اس امرکی طرف توجہ دلاتاہے کہ اگرمکہ معاہدہ اپنی موجودہ جغرافیائی حدوں سے نکل کرجنوبی ایشیا کی طرف پھیلتاہے تواس کی سیاسی معنویت بھی بدل سکتی ہے۔جودائرہ ابتدامیں مغربی ایشیاکی اجتماعی سلامتی کے گردکھینچاگیاہو،وہ آنے والے زمانے میں وسیع ترمسلم دنیا کے دفاعی مکالمے کاعنوان بھی بن سکتاہے۔
27اگست کوکویتی وزیرِدفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ سالم الصباح کے اسلام آبادکے دورے کے موقع پرپاکستان اورکویت نے مشترکہ دفاعی اورفوجی تعاون کے ایک نئے معاہدے پردستخط کیے۔یہ کوئی بالکل نئے درخت کی کاشت نہیں بلکہ2023میں قائم کیے گئے تعاون کے پودے کی ایک نئی شاخ ہے۔اس نئے بندوبست کامرکزی مقصدآپریشنل رابطہ کاری میں بہتری، فوجی تجربات کاتبادلہ،عسکری تیاری میں اضافہ،تربیتی تعاون،استعدادسازی اورسرحدی انتظام کے میدان میں اشتراک کو فروغ دینابتایاگیاہے۔گویادونوں ممالک نے رسمی تعلقات کے دریچے سے آگے بڑھ کرعملی تعاون کے دروازے کوکچھ زیادہ کشادہ کرنے کاارادہ ظاہرکیاہے۔
پاکستان اورکویت کے درمیان ابتدائی فریم ورک جون2023میں وجودمیں آیاتھا۔اس کامقصددفاعی صنعت،فوجی تربیت اور تجربات کے تبادلے سمیت متعددشعبوں کیلئے ایک منظم قانونی اور ادارہ جاتی بنیاد فراہم کرنا تھا۔نیامعاہدہ اس سابقہ فریم ورک کومحض کاغذی عہدوپیمان کی سطح سے نکال کرعملی نفاذکی زمین پرلانے کی کوشش کے طورپرپیش کیاگیاہے ۔ یوں کہاجا سکتاہے کہ پہلے بنیادرکھی گئی تھی،اب اس بنیادپرعمارت اٹھانے کامرحلہ شروع ہواہے۔
بین الاقوامی سیاست میں صرف یہ نہیں دیکھاجاتاکہ کیاہوا؛یہ بھی دیکھاجاتاہے کہ کب ہوا۔پاک کویت معاہدے کامکہ دفاعی معاہدے کے چندہی ہفتوں بعدسامنے آنااسی لیے تجزیے کاموضوع بناہے۔خلیج ایک ایسے دورسے گزررہی ہے جہاں پرانے سلامتی کے سانچے نئے دباؤبرداشت کررہے ہیں اورریاستیں اپنے دفاعی تعلقات کی نئی صف بندی کر رہی ہیں۔اس لیے اس معاہدے کاوقت اپنے اندرایک سیاسی اشارہ ضروررکھتاہے،خواہ اس سے فی الفورکسی نئے فوجی اتحادکانتیجہ اخذکرنا درست نہ ہو۔یہاں ایک نہایت بنیادی امتیازملحوظ رکھناضروری ہے۔پاک کویت معاہدہ،دستاویزکی وضاحت کے مطابق،کسی ایسے باہمی دفاعی اتحادکی حیثیت نہیں رکھتاجس میں ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک کولازماً جنگ میں داخل ہونے کاپابند کردے۔اس کا دائرہ عسکری تربیت،استعدادسازی،تجربات کے تبادلے اورافواج کے درمیان رابطہ کاری تک محدود ہے ۔ پس اسے مکہ دفاعی معاہدے کے ہم معنی سمجھناسیاسی تجزیے کی میزان کوبے وزن کردینے کے مترادف ہوگا۔
دستاویزمکہ معاہدے کواس کے برعکس ایک نسبتاوسیع اجتماعی سلامتی کے فریم ورک کے طورپرپیش کرتی ہے،جس میں پاکستان،سعودی عرب اورترکی میں سے کسی ایک پرحملے کومجموعی سلامتی کے تناظرمیں دیکھنے کاتصورشامل بتایاگیا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں دونوں معاہدوں کی نوعیت الگ ہوجاتی ہے۔کویت کے ساتھ پاکستان کاتعلق تربیت اوردفاعی استعداد کاہے،جبکہ مکہ معاہدے کابیان کردہ تصورمشترکہ دفاعی ذمہ داری سے نسبت رکھتاہے۔ایک جگہ فن اورتجربہ شریک کیاجا رہاہے؛دوسری جگہ سلامتی کی تقدیرکومشترک کرنے کاتصورابھرتاہے۔
پاک کویت تعاون کاعملی پہلوکویتی مسلح افواج کی صلاحیتوں میں اضافہ،تربیت اورمشترکہ مشقوں کے مواقع فراہم کرنے سے متعلق ہے۔تجزیے کے مطابق یہ تعاون مستقبل میں مزید شعبوں تک پھیل سکتاہے،لیکن اس توسیع کوپہلے ہی سے کسی لازمی مشترکہ دفاعی ضمانت کی منزل قراردینامناسب نہیں۔سفارت کاری میں ہرکھلتاہوادروازہ کسی آخری منزل کی ضمانت نہیں ہوتا؛بعض اوقات وہ محض آئندہ امکانات کی راہداری ہوتاہے۔پاک کویت تعلق بھی فی الحال اسی راہداری میں دکھائی دیتا ہے۔
پاک کویت معاہدے کواس وسیع ترپس منظرسے الگ نہیں کیاجاسکتاجس میں علاقائی جنگیں،سمندری راستوں کی کشیدگی، توانائی کی تنصیبات پرحملوں کے خدشات اورامریکاو ایران کے درمیان دیرینہ محاذآرائی کے اثرات شامل ہیں۔ان حالات میں خلیجی ریاستیں بظاہراس نتیجے پرپہنچ رہی ہیں کہ سلامتی کی پوری عمارت ایک ہی ستون پرقائم کرنادانش مندی نہیں۔چنانچہ دفاعی شراکت داریوں کومتنوع بناناایک تدبیرنہیں بلکہ رفتہ رفتہ علاقائی حکمتِ عملی بنتی دکھائی دیتی ہے۔پاکستان اورخلیجی ممالک کے دفاعی تعلقات نہ نئے ہیں، نہ وقتی۔کئی دہائیوں سے پاکستان مختلف خلیجی ریاستوں میں تربیتی پروگراموں،عسکری مشیروں اورفوجی اہلکاروں کے ذریعے دفاعی صلاحیت کی تعمیرمیں کرداراداکرتارہاہے۔کویت کیلئے پاکستانی تعاون اسی دیرینہ تجربے سے استفادہ کرنے کاایک موقع ہے۔پاکستان کی فوجی تربیت،ادارہ جاتی تجربہ اور مختلف جغرافیائی وعسکری حالات میں کام کرنے کی صلاحیت اسے خلیجی ریاستوں کیلئے ایک قابلِ توجہ شراکت داربناتی ہے۔(جاری ہے)